انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 421

ر العلوم جلد ۳۰ ۲۱۔اس حدیث سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے۔اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا نام آپ کے دادا نے اور رکھا تھا اور والدہ نے اور۔لیکن اس حدیث میں آپ نے یہ کہا ہے کہ میرے اہل نے میرا نام محمد رکھا ہے۔یعنی سارے رشتہ داروں نے یہی نام رکھا ہے۔نہ کہ کسی نے کچھ۔اور کسی نے کچھ یہ آپ کا نام احمد نہ ہونے کے متعلق ایک ایسی شہادت ہے۔جسے مخالف بھی مانتے ہیں۔اور رسول کریم ﷺ کی اپنی زبانی ہے۔اس کے مقابلہ میں ہمارے سامنے ایسی حدیثیں پیش کی جاتی ہیں۔جن کے متعلق محدثین کہہ چکے ہیں کہ وضعی ہیں۔اگر ہم ان کو وضعی قرار دیتے۔تو کہا جا سکتا تھا کہ اپنے خلاف ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔لیکن ان کو تو پہلے لوگ بھی وضعی قرار دے چکے ہیں۔واقدی کے متعلق امام بخاری لکھتے ہیں کہ وہ کذاب تھا۔پھر اس حدیث کے بیان کرنے والا وہ شخص ہے جس نے مرنے کے وقت کہا تھا کہ میں نے تین ہزار حدیثیں خود بنائی ہیں ایسے شخص کی بیان کی ہوئی حدیث کیا وقعت رکھتی ہے۔پس میرا مذہب یہ ہے کہ صفت احمدیت کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ احمد ہیں۔اور آپ سے بڑھ کر اور کوئی احمد نہیں گذرا۔حضرت مسیح موعود نے بھی اعجاز المسیح میں اس بات کو تسلیم کیا ہے۔تو آنحضرت ا کی صفت احمد تھی۔آپ کے والدین نے آپ کا نام احمد نہ رکھا تھا۔ہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اسی طرح احمد کہا گیا۔جس طرح حضرت مسیح موعود کو داؤد اور سلیمان ، موسی اور ابراہیم کہا گیا۔اسی طرح آنحضرت ا کو حاشر، عاقب نامی کہا گیا۔(بخاری کتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ پس میری طرف بات غلط طور پر منسوب کی جاتی ہے کہ میں آنحضرت ا الا یہ کو احمد نہیں سمجھتا۔اور یہ بھی غلط ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں آنحضرت ا کا ذکر نہیں ہے۔کیونکہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود آنحضرت ا کے کامل ظل ہیں۔تو جو کچھ ظل ہے۔ضرور ہے کہ اصل بھی ہو۔اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ احمد ہوں۔تو پھر مسیح موعود احمد ہوں۔پھر ایک بات غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کے متعلق ہے اس کے متعلق غیر احمدی کو لڑکی دینا جو روایت پیش کی جاتی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ کا واقعہ نہیں۔اور نہ ہی آپ نئے اس کے متعلق مشورہ لیا گیا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے