انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 416

انوار العلوم جلد - - ۴۱۶ مسیح موعود کی نسبت خیال تھا کہ ان کی ہوشیاری سے سلسلہ چل رہا ہے لیکن خدا تعالٰی نے آپ کو وفات دینے کے بعد سلسلہ کو قائم رکھ کر بتا دیا کہ گو یہ ہمارا نبی اور رسول ہے مگر یہ سلسلہ اس کا نہیں ہمارا اپنا ہے۔دوسرے مولوی نور الدین صاحب کی نسبت خیال تھا کہ ان کی وجہ سے اس سلسلہ کا قیام ہے مگر خدا تعالیٰ نے ان کی وفات کے بعد بھی اس سلسلہ کو قائم رکھ کر دکھا دیا کہ گو وہ ہمارا پیارا مقرب بندہ تھا مگر یہ سلسلہ اس کا بھی نہیں میرا اپنا ہے۔تیسرے بعض انگریزی خوانوں کی نسبت خیال تھا کہ ان کی تدابیر سے اس سلسلہ کو شہرت حاصل ہوئی ہے مگر خدا تعالٰی نے ان کے الگ ہونے کے بعد سلسلہ کو برقرار رکھ کر سمجھا دیا کہ ان کو عزت اور رتبہ اس لئے حاصل ہوا تھا کہ یہ میرے سلسلہ میں داخل ہوئے تھے نہ کہ ان کی وجہ سے سلسلہ کو تقویت حاصل ہوئی تھی۔چوتھے مولوی محمد احسن کی نسبت بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی شخصیت کی وجہ سے یہ جماعت پراگندہ ہونے سے محفوظ رہی ہے سو ان کو بھی علیحدہ کر کے ثابت کر دیا کہ اس سلسلہ کا سہارا کسی انسان پر نہ تھا۔اب اگر مولوی صاحب تو بہ کریں اور اپنی غلطی سے آگاہ ہو کر پھر اس سلسلہ میں شامل ہو جائیں تو بھی دنیا نے تو دیکھ ہی لیا ہے کہ ان کے نہ ہونے سے اس سلسلہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو ہدایت پانے کی توفیق عطا فرمائے۔اب میں کچھ اور بیان کرنا چاہتا ہوں۔بعض دوستوں نے مجھے بتایا ہے کہ غیر مبائعین بعض لوگوں کو میرے عقائد کے متعلق دھوکا دیتے ہیں۔میں حیران ہوں کہ جبکہ میں اپنے عقائد کو اپنی کتابوں میں نہایت واضح طور پر لکھ چکا ہوں تو پھر کیوں دھوکا لگتا ہے تاہم مختصر طور پر اس وقت کچھ بیان کر دیتا ہوں۔پہلی بات میری طرف یہ منسوب کی جاتی ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آنحضرت کے برابر سمجھتا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ ظلیت کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود میں آنحضرت ا کے تمام کمالات آگئے ہیں مگر درجہ کے لحاظ سے آپ کو آنحضرت ا کے برابر کہنا میں کفر سمجھتا ہوں۔دیکھو تصویر میں وہ باتیں آجاتی ہیں جو اصل میں ہوتی ہیں۔مثلاً ہاتھ ناک کان سر ، آنکھیں وغیرہ وغیرہ مگر پھر بھی تصویر تصویر ہی ہے اور اصل اصل ہی۔پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس قدر رسول کریم کے نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے لیکن کیا استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے۔