انوارالعلوم (جلد 3) — Page 415
انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۱۵ کروں گا اور اس صداقت کو لے کر جو حضرت مسیح موعود لائے ہیں میں اکیلا ہی کھڑا ہو جاؤں گا اور تمام دنیا میں پھیلا دوں گا۔اس میں شک نہیں کہ میری صحت اچھی نہیں رہتی اور میں جسم کا کمزور ہوں مگر خدا تعالٰی نے مجھے بہت مضبوط اور بہادر دل دیا ہے۔ہاں رحم اور شفقت کا مادہ بھی مجھ میں بہت زیادہ ہے۔اس لئے جہاں تک ہو سکے میں در گذر کرتا اور اصلاح کا موقعہ دیتا ہوں۔چند ہی دن ہوئے کہ میں نے اپنی طرف سے مفتی محمد صادق صاحب کو ایک خط دے کر مولوی محمد احسن صاحب کی طرف لاہور روانہ کیا تھا جس میں ان کو بہت نرمی سے سمجھایا گیا تھا۔پس میں نے اپنی طرف سے ان کے معاملہ میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہر رنگ اور ہر طریق سے ان کی دلداری کی ہے۔جب مجھے ابتداء میں ان کے متعلق معلوم ہوا تو چار پانچ آدمی امروہہ ان کے پاس بھیجے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔اور بالآخر جو مقدر میں تھا وہ ہو گیا۔لیکن یہ بھی میری صداقت کے لئے ایک نشان ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ اس طرح دکھانا چاہتا ہے کہ جو کام ہو رہا ہے وہ خدا ہی کرا رہا۔ہے نہ کہ کسی انسانی مدد اور تائید سے چل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سلسلہ آپ ہی سے تعلق رکھتا ہے جب آپ نہ رہیں گے تو یہ بھی نہیں رہے گا۔لیکن جب آپ فوت ہو گئے اور یہ سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ بڑھنے لگا تو بعض نے کہا کہ ہم جو کہتے تھے کہ مولوی نور الدین صاحب مرزا صاحب کو کتابیں لکھ کر دیتے اور وہ شائع کرتے تھے۔یہ بات صحیح نکلی کیونکہ اب مرزا صاحب کے بعد مولوی صاحب ہی اس کام کو چلا رہے ہیں۔جب یہ فوت ہو گئے تو پھر اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔چنانچہ خواجہ غلام الثقلین نے یہی لکھا تھا۔لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ اس جماعت میں جو انگریزی خواں ہیں ان کی وجہ سے کام چل رہا ہے۔خدا تعالیٰ نے ان دونوں قسم کے لوگوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے یہ نشان دکھلایا کہ ایک ہی وقت میں ادھر حضرت مولوی صاحب کو وفات دے کر سلسلہ سے جدا کر لیا اور ادھر ان انگریزی خوانوں کو جن پر لوگوں کی نظریں پڑتی تھیں جدا کر دیا تاکہ ثابت کر دے کہ یہ خدا تعالٰی کا سلسلہ ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔لیکن پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس وقت یہ سلسلہ مٹ جانا تھا لیکن مولوی محمد احسن نے خلافت کو قائم کر کے پھر بچالیا ہے۔جب یہ خیال پیدا ہوا تو خدا تعالٰی نے کہا کہ لو ہم اس کو بھی علیحدہ کر دیتے ہیں اس طرح شرک کی یہ لات بھی ٹوٹ گئی۔لوگوں نے اس سلسلہ کو قائم رکھنے والی چار لاتیں بنائی تھیں۔ایک حضرت