انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 406

نلوم جلد - ۳ ۴۰۶ نہیں گئے اور اس عرصہ میں مجھے کئی ایک علمی تحقیقاتوں کا موقعہ مل گیا۔جو اگر میری صحت اچھی ہوتی تو شاید کسی اور وقت پر ملتوی کرنی پڑتیں۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے۔میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں پچھلے سال بہت بیمار رہا ہوں اور اس ماہ کے ابتداء سے تو کھانسی بھی شروع ہو گئی ہے۔اس حالت میں میں لکھنے کا تو کام کچھ کر بھی سکتا ہوں۔لیکن بولنے کے وقت کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔ایک وجہ تو یہ ہوئی اور دوسری یہ کہ گذشتہ ستمبر میں میں نے ایک رویا دیکھی تھی۔جو یہاں کے لوگوں کو اسی وقت بتا دی گئی تھی کہ قادیان میں سخت تپ ہو گا۔جو اپنے اندر طاعون کی طرح کا زہر رکھتا ہو گا۔چونکہ خدا تعالٰی نے ہماری جماعت کے متعلق طاعون سے حفاظت کرنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔اس لئے اس کو آپ سے بدل دے گا کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماریاں اور جانوں اور مالوں کا اتلاف بھی مؤمنین کے متعلق سنت اللہ ہے اس لئے خدا تعالٰی جس نے چونکہ طاعون سے محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔اس کی بجائے آپ نازل کرے گا تاکہ اس طرح کرنے سے نہ تو اس وعدہ کے خلاف ہو۔اور نہ وہ غلط ٹھہرے اور نہ ہی قرآن کریم کی بیان کردہ سنت کے خلاف ہو۔یہ رویا میں نے انہی دنوں لوگوں کو سنا دی تھی۔اس کے بعد ایسا تپ آیا کہ قریباً ہر ایک مرد و عورت پر اس کا حملہ ہوا۔اور جس گھر کے آٹھ آدمی تھے۔وہ آٹھوں ہی بیمار ہو گئے۔اور اس قدر شدید بخار ہو تا کہ ایک سو سات درجہ تک پہنچ جاتا۔ان دنوں ہر گھر میں بیماری پڑ گئی۔اور اس مرض کی وجہ سے کام کرنے والے لوگ بھی یا تو خود بیمار رہے یا بیماروں کے تیمار دار بنے رہے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت کچھ آرام ہو گیا ہے اور کام ہو رہا ہے۔اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ اگلے سال اسباق اور ترجمہ القرآن تیار ہو جائے گا۔اب کے جو ترجمہ کیا گیا ہے۔وہ پہلے سے بھی زیادہ وسیع مطلب پر مشتمل ہے۔اس ترجمہ کا بہت سا حصہ تو ہو چکا ہے اور ارادہ ہے کہ اس جزء میں سورہ بقرہ ختم کر دی جائے۔یہ ترجمہ انشاء اللہ عنقریب چھپ کر آپ لوگوں کو پہنچ جائے گا۔دوسری بات جو میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ ایک تازہ شور برپا ہوا ہے اور وہ مولوی محمد احسن صاحب کے رسالہ اور اشتہارات کے متعلق ہے۔مجھے سخت حیرت ہوئی۔مولوی محمد احسن صاحب کا ایک تازہ اشتہار دیکھ کر اور میں حیران ہوں کہ انسان کسی کی مخالفت اور عداوت کی وجہ سے تقویٰ کو کیوں چھوڑ دیتا ہے۔مولوی محمد احسن صاحب اس اشتہار میں لکھتے ہیں : ” میں نے محض اتحاد جماعت قائم رکھنے کی خاطر یہی مناسب سمجھا کہ ہم سب لوگ