انوارالعلوم (جلد 3) — Page 14
نلوم جلد ۳۰ ۱۴ چند غلط نمیور "جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں" (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۶- ۴۰۷) - حضرت مسیح موعود کے سوا اس امت میں اور کوئی شخص نبی نہیں کہلا سکتا ، اور نہ نبیوں کی سی نبوت کسی کو ملی ہے۔ہاں جزوی نبوت کے بیشک بعض لوگ مستحق ہوئے۔لیکن جزوی نبوت در حقیقت کوئی نبوت نہیں بلکہ بعض کمالات نبوت پانے کا نام ہے۔اور جو شخص صرف رویائے صالحہ دیکھ لے۔اس کی نسبت بھی کہا جا سکتا ہے کہ نبوت کا ایک جزو اس میں بھی پایا جاتا ہے مگر وہ نبی نہیں ہو سکتا اور یہی وجہ ہے کہ جب تک حضرت مسیح موعود اپنی نبوت کو جزوی نبوت خیال کرتے رہے۔آپ اپنے آپ کو نبی نہیں قرار دیتے تھے جیسا کہ تریاق القلوب کے وقت میں آپ نے اپنے آپ کو غیر نبی قرار دے کر مسیح سے اپنے من کل الوجوه افضل ہونے سے انکار کیا ہے لیکن بعد میں اپنے افضل ہونے کا اس بناء پر کہ آپ کو بار بار نبی کہا گیا ہے بڑے زور سے اعلان کیا ہے۔دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۰٬۱۴۹٬۱۴۸ اور ۱۹۰۱ء سے لے کر اس کے بعد جب سے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے افضل ہونے اور اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا ہے کبھی اپنی نبوت کو جزوی یا ناقص نبوت نہیں قرار دیا۔اور اگر ایسا کیا ہو تو اس کا ثبوت دیا جائے۔تریاق القلوب تک بے شک آپ اپنے آپ کو جزوی نبی قرار دیتے رہے جو ۱۸۹۹ء میں لکھی گئی اور ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی۔لیکن 1901ء سے آپ نے اس عقیدہ کو بالکل ترک کر دیا اور حقیقۃ الوحی سے ثابت ہے کہ اس کے ترک کرنے کا باعث انکشاف تام تھا۔اور وحی الہی سے اسطرف توجہ منعطف ہوئی تھی۔پس آپ کی نبوت کو اب جزوی نبوت نہیں کہا جا سکتا۔مولوی صاحب نے اسی غلطی میں پڑ کر جو میں نے پہلے بیان کی ہے کچھ سوالات بھی کئے ہیں مثلا یہ کہ اگر ۱۹۰۲ ء میں دعوی نبوت کیا ہے تو پھر لو تقول والی آیت سے کیوں حضرت مسیح موعود پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔اور یہ کہ جب مسیح موعود کے دعوے کے باوجود آپ کئی سال تک جزوی نبی رہ سکتے تھے تو بعد میں کیوں آپ کا نبی ہونا ضروری ہوا۔اسی طرح یہ کہ حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں کہ جو شخص کثرت مکالمہ مخاطبہ سے زیادہ کسی اور نبوت کا دعوئی