انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 356

العلوم جلد - ۳۵۶ سیرت مسیح موعود نہ تھی اور اس جلسہ میں تو شائد پچاس سے زائد آدمی بھی شامل نہ ہوں گے۔آپ کی تقریر ۲۷/ دسمبر کو ڈیڑھ بجے سے ساڑھے تین بجے تک تھی۔آپ خود تو وہاں نہ جا سکے تھے لیکن آپ نے اپنے ایک مخلص مرید مولوی عبد الکریم صاحب کو اپنی طرف سے مضمون پڑھنے پر مقرر کیا تھا۔جب انہوں نے تقریر شروع کی تو تھوڑی ہی دیر میں ایسا عالم ہو گیا کہ گویا لوگ بت بنے بیٹھے ہیں اور وقت کے ختم ہونے تک لوگوں کو معلوم ہی نہ ہوا کہ کس قدر عرصہ تک آپ بولتے رہے ہیں۔وقت ختم ہونے پر لوگوں کو سخت تشویش ہوئی کیونکہ آپ کے مضمون کا ابھی پہلا سوال بھی ختم نہ ہوا تھا۔اور اس وقت لوگوں کی خوشی کی کوئی انتہاء نہ رہی جب کہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے جن کا لیکچر آپ کے بعد تھا اعلان کیا کہ آپ کے مضمون کا وقت بھی حضرت صاحب کو ہی دیا جائے چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب آپ کا لیکچر پڑھتے چلے گئے حتی کہ ساڑھے چار بج گئے جب کہ جلسہ کا وقت ختم ہونا تھا۔لیکن اب بھی پہلا سوال ختم نہ ہوا تھا اور لوگ مصر تھے کہ اس لیکچر کو ختم کیا جائے۔چنانچہ منتظمین جلسہ منتظمین جلسہ نے اعلان کیا کہ بلالحاظ وقت کے یہ مضمون جاری رہے۔جس پر ساڑھے پانچ بجے تک بنایا گیا تب جا کر پہلا سوال ختم ہوا۔مضمون کے ختم ہوتے ہی لوگوں نے اصرار کیا کہ اس مضمون کے ختم کرنے کے لئے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا جائے۔چنانچہ ۲۸ تاریخ تک کے پروگرام کے علاوہ ۲۹ - تاریخ کو بھی جلسہ کا انتظام کیا گیا اور اس روز چونکہ بعض اور مذاہب کے قائم مقاموں نے بھی وقت کی درخواست کی تھی اس لئے کارروائی جلسہ صبح کو بجائے ساڑھے دس بجے کے ساڑھے نو بجے سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا اور سب سے پہلے آپ ہی کا مضمون رکھا گیا اور گو پہلے دنوں میں لوگ ساڑھے دس بجے بھی پوری طرح نہ آتے تھے لیکن آپ کے پہلے دن کے لیکچر کا یہ اثر تھا کہ ابھی نو بھی نہ بجے تھے کہ ہر مذہب وملت کے لوگ جوق در جوق جلسہ گاہ میں جمع ہونے شروع ہو گئے اور عین وقت پر جلسہ شروع کیا گیا۔اس دن بھی گو آپ کے مضمون کے لئے اڑھائی گھنٹے دیئے گئے تھے لیکن تقریر کے اس عرصہ میں ختم نہ ہو سکنے کی وجہ سے منتظمین کو وقت اور دینا پڑا۔کیونکہ تمام حاضرین یک زبان اس تقریر کے جاری رکھنے پر مصر تھے۔چنانچہ ماڈریٹر صاحبان کو وقت بڑھانا پڑا۔غرض دو روز کے قریبا ساڑھے سات گھنٹوں میں جاکر ہے تقریر ختم ہوئی اور تمام لاہور میں ایک شور پڑ گیا اور سب لوگوں نے تسلیم کیا کہ مرزا صاحب کا مضمون بالا رہا۔اور ہر مذہب وملت کے پیرو اس کی خوبی کے قائل ہوئے۔جلسہ کی رپورٹ