انوارالعلوم (جلد 3) — Page 334
ار العلوم جلد ۳۰ ۳۳۴ جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا۔جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔غلام مرتضیٰ جو ایک لائق حکیم تھا۔۱۸۷۶ء میں فوت ہوا۔اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اس کے پاس ان افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔یہ کچھ عرصہ تک گورداسپور میں دفتر ضلع کا سپرنٹنڈنٹ رہا۔اس کا اکلوتا بیٹا کم سنی میں فوت ہو گیا اور اس نے تو اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنی کر لیا۔جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اور اب اکسٹرا اسسٹنٹ ہے۔یہ قادیان کا نمبردار بھی ہے۔نظام الدین کا بھائی امام الدین جو ۱۹۰۴ء میں فوت ہوا ، دہلی کے محاصرے کے وقت ہاؤسن ہورس (رسالہ) میں رسالدار تھا۔اس کا باپ غلام محی الدین تحصیلدار تھا۔یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔یہ شخص ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوا اور اس کو تعلیم نہایت اچھی ملی۔۱۸۹۱ء میں اس نے بموجب اسلام مهدی یا مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا۔چونکہ یہ ایک عالم اور منطقی تھا۔اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس کے معتقد ہو گئے۔اور اب احمدیہ جماعت کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔مرزا عربی۔فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔جن میں اس نے جہاد کے مسئلہ کی تردید کی۔اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ان کتابوں نے مسلمانوں پر اچھا اثر کیا ہے۔مدت تک یہ بڑی مصیبت میں رہا کیونکہ مخالفین مذہب سے اس کے اکثر مباحثے اور مقدمے رہے۔لیکن اپنی وفات سے پہلے جو ۱۹۰۸ء میں ہوئی اس نے ایک رتبہ حاصل کر لیا۔کہ وہ لوگ بھی جو اس کے خیالات کے مخالف تھے اس کی عزت کرنے لگے۔اس فرقہ کا صدر مقام قادیان ہے جہاں انجمن احمدیہ نے ایک بہت بڑا سکول کھولا ہے اور چھاپہ خانہ بھی ہے جس کے ذریعہ سے اس فرقہ کے متعلق خبروں کا اعلان کیا جاتا ہے۔مرزا غلام احمد کا خلیفہ ایک مشہور حکیم مولوی نورالدین ہے جو چند سال مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہا ہے۔