انوارالعلوم (جلد 3) — Page 247
انوار العلوم جلد ۲۴۷ اسلام اور دیگر مذاہب ہے لیکن دو دو سرے گروہوں کا جو احسان یا خوف کے بغیر تعلق نہیں پیدا کرتے اور نیک یا بد کسی نہ کسی سبب سے ان کے اندر وہ جذبہ مرگیا ہے جو صرف حسن سے محبت کو جوش میں لاتا اور اس طرح تعلق پیدا کراتا ہے تو ایسے لوگ اس مذہب کے ذریعہ سے ہرگز خدائے تعالی تک نہیں پہنچ سکتے اور ضرور ہے کہ ان کی طبیعت اپنا علاج نہ پا کر دین سے بیزار ہو جائے اور اس طرح ہمیشہ کی ہلاکت میں گر جائے۔اسی طرح اگر کوئی مذہب صرف احسان پر زور دیتا ہے اور اللہ تعالٰی کے ان انعامات کی طرف متوجہ کر کے اس کا تعلق اس سے قائم کرنا چاہتا ہے جو وہ اپنے سے تعلق رکھنے والوں کو دیتا ہے تو یہ مذہب بھی ایک طرف جھک جاتا ہے اور میانہ روی کو ترک کر دیتا ہے اور وہ طبائع جو حسن و خوف سے تعلق پیدا کیا کرتی ہیں ان کی بیماری کا علاج اس مذہب میں نہیں اور ایسی تمام طبائع اس مذہب کے ذریعہ سے خدائے تعالی تک نہیں لائی جا سکتیں اسی طرح اگر کوئی مذہب خوف خدا پر ہی زور دیتا ہے تو اسے ایسی بھیانک شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اس سے قطعا کسی بخشش اور رحم کی امید نہیں تو بے شک وہ لوگ جو خوف کا اثر اپنے دل میں قبول کرتے ہیں اس مذہب کے ذریعہ سے کچھ فائدہ اٹھا ئیں تو اٹھا ئیں لیکن وہ طبائع جو محبت سے تعلق پیدا کرنے کی عادی ہیں کبھی اس مذہب سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں اور جو لوگ خوف سے تعلق پیدا کرتے ہیں ان کا تعلق در حقیقت ایک عارضی تعلق ہوتا ہے اور ان انعامات کا ہرگز مستحق نہیں بناتا جن کا مستحق تعلق محبت بناتا ہے پس وہ مذہب جو خدا محبت ہے کہہ کر دنیا کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔اور صرف ایک عقیدہ پر ایمان لانے پر نجات کو منحصر کرتا ہے اور اعمال کے پہلو کو بالکل بھلا دیتا ہے کبھی کل بنی نوع انسان کیلئے کافی نہیں ہو سکتا کیونکہ بہت ہیں جو صرف ایمان پر اپنا مدار رکھ کر اپنی خونی طبیعت کے نیچے دب جائیں گے اور خدا کی محبت خواہ کیسے ہی اعلیٰ سے اعلیٰ رنگ میں ان کے سامنے پیش کی جائے وہ اس سے متاثر نہ ہوں گے اور اسی طرح خدا سے دور جا پڑیں گے جیسے کہ وہ بد بخت جو اپنے ماں باپ کے احسانات کو دیکھتے ہوئے پھر ان کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔اسی طرح وہ مذہب جو کہتا ہے کہ خدا تعالی ایسا یک طرفہ معاملہ کرتا ہے کہ اس نے اپنا تمام تعلق ایک قوم سے مخصوص کر دیا ہے اور اس کے سب چیدہ انعامات صرف ایک خاص نسل کے ساتھ وابستہ ہونے پر ملتے ہیں کبھی سب دنیا کی اصلاح کرنے والا مذہب نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسا مذہب خدائے تعالیٰ کے متعلق انسانوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے نہ محبت پھر اسی طرح وہ مذہب جو خدائے تعالیٰ کے