انوارالعلوم (جلد 3) — Page 223
انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۲۳ انوار خلافت ایک بڑا شہر ہو گا فٹنیں اور موٹر کاریں چلتی ہوں گی سجے سجائے بازار ہوں گے سیرو تفریح کے بڑے سامان موجود ہوں گے۔اور کوئی یہ سمجھ لے گا کہ قادیان ایک چھوٹا سا گاؤں ہو گا پانچ دس شخص ہوں گے ایک پیر بیٹھا ہو گا رطب و یابس ہانک رہا ہو گا۔اور جس طرح اور سینکڑوں ہزاروں گدیاں ہیں اسی طرح وہ بھی ایک گدی ہوگی اس کے سوا اور وہاں رکھا ہی کیا ہو گا۔غرض جو انسان حضرت مسیح موعود کو مانتا ہو گا وہ اپنے دل میں اور ہی نظارہ کھینچے گا۔اور جو نہیں مانتا ہو گا وہ کچھ اور ہی۔لیکن اس قسم کے خیالی نظارے اکثر غلط ہوا کرتے ہیں۔اور لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سو ننانوے غلط ہوتے ہیں۔تو اگر حضرت مسیح موعود کی نسبت یہ کہا جاتا کہ فلاں زمانہ میں ایک نبی آئے گا جو سب لوگوں کو ایک نقطہ پر بلائے گا۔تو بعض ختم نبوت کے خیال سے اس کا ایسا بھونڈا نقشہ بناتے جو دیکھنے کے قابل ہی نہ ہوتا۔اور بعض غلو کی راہ ہے اسے کچھ اور کا اور ہی قرار دے لیتے۔اس لئے خدا تعالٰی نے اس کا نمونہ بتا دیا اور کہہ دیا کہ کرشن ہی آئے گا تاکہ کرشن کے ماننے والے سمجھ لیں کہ وہ اس طرح کا ہو گا۔یہ اسی طرح کیا گیا ہے جس طرح جب کسی کو قادیان کا نام بتایا جائے تو ساتھ ہی یہاں کا نقشہ اور صحیح حالات بھی اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں۔اس سے اس کو دھوکا نہیں لگے گا۔خدا تعالیٰ نے اسی بات کو مد نظر رکھ کر کہ لوگ جھوٹا نقشہ نہ بنالیں جس سے دھوکا کھا جائیں کچھ نبیوں کے نام ہی دوبارہ آنے کے لئے رکھ دیئے۔تاکہ اس طرح لوگ آسانی سے سمجھ لیں۔پس اب کوئی حضرت مسیح موعود کے متعلق جھوٹا نقشہ نہیں کھینچ سکتا کیونکہ اس کے سامنے پہلے نبیوں کے نقشے موجود ہیں۔پانچویں حکمت " یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی منشاء تھی کہ تمام لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک ہاتھ پر اور ایک جگہ جمع کر دے۔اور ایسا اس وقت تک ہو نہیں سکتا تھا جب تک کہ جس کے ذریعہ اکٹھا کیا جاتا اس سے لوگوں کو محبت اور انس نہ ہوتا۔دیکھو ایک رائی جب بکریوں کو بلاتا ہے تو سب دوڑی آتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ یہ ہمیں کوئی کھانے کی چیز دے گا یا آرام کی جگہ لے جائے گا۔اسی طرح مرغے اپنے پالنے والے کی آواز پر اکٹھے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہمیں دانہ ڈالے گا۔اسی طرح کبوتر پالنے والا جب انہیں بلاتا ہے۔تو وہ بھاگے آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہمیں کھانے کو دے گا۔تو چونکہ خدا تعالی کو منظور تھا کہ تمام لوگوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرے اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا تھا جب تک