انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 148

لوم جلد - ۳ ۱۴۸ انوار خلافت ہیں۔اور ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے جب تک کہ وہ بیعت میں داخل نہ ہو جائے اور ہم میں شامل نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے مامور ایک بڑی چیز ہوتے ہیں جو ان کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں قبول نہیں ہو سکتا۔اس میں شک نہیں کہ بعض غیر احمدی ایسے ہوں گے جو کچے دل سے حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں مانتے اس لئے قبول نہیں کرتے۔لیکن ہم بھی مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ خواہ کسی وجہ سے سہی وہ حق کے منکر ہیں۔غیر احمدیوں کا اس بات پر چڑنا کہ ہم ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ایک لغو امر ہے۔وہ غیر احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں وہ ہم کو مسلمان کیونکر سمجھتا ہے اور کیوں اس بات کا خواہاں ہے کہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں۔ہمارا اس کے پیچھے نماز پڑھ لینا اسے کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ غیر احمدیوں سے ہم دیگر دنیاوی اور تمدنی تعلقات کو منقطع کر دیں۔آنحضرت ا نے تو عیسائیوں کو بھی اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔پس جب باوجود اس قدر اختلاف کے دین میں ایک دو سرے کو مذہبی سہولتیں بہم پہنچانے کا حکم ہے تو دنیاوی تعلقات کو ترک کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔دوسروں سے محبت کرد پیار کرو ان کی مصیبت کے وقت ان کے کام آؤ بیمار کا علاج کرو ، بھوکے کو روٹی کھلاؤ تنگے کو کپڑا پہناؤ ان باتوں کا تمہیں ضرور ثواب ملے گا۔لیکن دین کے معاملہ میں تم ان کو اپنا امام نہیں بنا سکتے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بار بار حکم دیا ہے۔پس اس بات کو خوب یاد رکھو۔اور سختی سے اس پر عملدرآمد کرو۔غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا پھر ایک سوال غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کے متعلق کیا جاتا ہے۔اس میں ایک یہ مشکل پیش کی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے بعض صورتوں میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض حوالے ایسے ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔اور ایک خط بھی ملا ہے جس پر غور کیا جائے گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس کے برخلاف