انوارالعلوم (جلد 3) — Page 149
۱۴۹ انوار خلافت ہے چنانچہ آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا۔جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آگیا جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا تھا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اس طرح کریں۔لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔حدیث میں آیا ہے کہ جب ابو طالب جو آنحضرت کے چچا تھے فوت ہونے لگے ( بعض نے تو ان کو مسلمان لکھا ہے لیکن اصل بات یہی ہے کہ وہ مسلمان نہ تھے) تو آنحضرت ﷺ نے کہا کہ چا ایک دفعہ لا اله الا اللہ کہدو تاکہ میں آپ کی شفاعت خدا تعالی کے حضور کر سکوں۔لیکن انہوں نے کہا کہ کیا کروں جو کچھ تم کہتے ہو۔اس کو دل تو مانتا ہے مگر زبان پر اس لئے نہیں لا سکتا کہ لوگ کہیں گے مرنے کے وقت ڈر گیا ہے۔اسی حالت میں وہ فوت ہو گئے ( السيرة النبوية لابن هشام جلد ۲ و ۲۱۸ مطبوعه از موسسه علوم القرآن بیروت) حضرت علی کے چونکہ والد تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت ا سے ان کے متعلق کچھ فیض حاصل کریں۔مگر ساتھ ہی ڈرتے تھے کہ یہ چونکہ مسلمان نہیں ہوئے اس لئے رسول کریم ناراض نہ ہو جائیں۔اس لئے انہوں نے اپنے والد کے مرنے کی خبر رسول کریم کو ان الفاظ میں پہنچائی کہ یا رسول اللہ آپ کا گمراہ بڑھا چا مر گیا ہے۔آپ نے فرمایا جاؤ اور جا کر ان کو غسل دو لیکن آپ نے ان کا جنازہ نہ پڑھا۔قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔یہ دین کی باتیں ہیں۔ان میں جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔دنیا کے معاملات میں ہم دوسروں کے ساتھ ایک ہیں لیکن دین کے معاملہ میں فرق ہے اس میں ایک نہیں ہو سکتے۔اور سمجھدار آدمی اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔لکھنو میں ہم ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے اس