انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 145

العلوم جلد - ۱۴۵ انوار خلافت کرتی ہو۔تو پرواہ نہیں کرتے۔بخار کھانسی اور درد کو خطرناک سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس کھانسی بخار اور درد کی باری ہوئی بیوی تو انہیں مل جائے گی مگر دین کی ماری ہوئی نہیں ملے گی۔اس دنیا کی جدائی سے گھبراتے ہیں اور ہر طرح کی کوششیں کرتے ہیں کہ جدائی نہ ہو لیکن اس ہمیشہ کی جدائی کا انہیں فکر نہیں ہے جو بے دین ہونے کی وجہ سے واقعہ ہوگی۔پس اگر تمہیں اپنی عورتوں سے محبت ہے، پیار ہے، انس ہے تو جس طرح خود دین کی تعلیم سیکھتے ہو اسی طرح ان کو بھی سکھاؤ۔اور یاد رکھو جب تک اس طرح نہ ہو گا ہماری جماعت کا قدم اس جگہ پر نہ پہنچے گا جس جگہ صحابہ کرام کا پہنچا تھا۔کیونکہ اولاد پر عورتوں کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔اگر عورتوں کے بے دین ہونے کی وجہ سے اولاد بھی بے دین رہی تو آئندہ کس طرح ترقی ہوگی۔ہمارے ایک دوست لکھتے ہیں کہ میں اپنے بچوں کو احمدیت کے متعلق سمجھاتا رہتا ہوں لیکن جب باہر جاتا ہوں تو ان کی والدہ پیار سے اپنے پاس بلا کر کہہ دیتی ہے کہ تمہارا باپ جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے اس کو نہ مانتا۔اس طرح بچے ایسے کے ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔اب غور کرو کہ بچے باہر رہنے والے ابا کی بات مانیں گے یا ہر وقت پاس رہنے والی ماں کی۔ماں سے بچوں کو بالطبع محبت ہوتی ہے اس لئے اس کی بات کا ان پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور اسی کی بات وہ جلدی قبول کر لیتے ہیں۔چنانچہ بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے مسلمان جنہوں نے عیسائی عورتوں سے شادی کی ان کی اولاد بھی عیسائی ہو گئی۔جس کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ماں اپنے بچوں کو خفیہ خفیہ عیسائیت کی تعلیم دیتی رہی۔پس تم لوگ اگر اپنی اولاد کو دیندار بنانا چاہتے ہو تو ان کی ماؤں کو مضبوط کرو تاکہ تمہاری نسلیں مضبوط ہوں۔کیونکہ بچپن سے کان میں پڑی ہوئی بات پھر مٹ نہیں سکتی۔کیا اگر دنیا میں نسلی تعصب نہ ہو تا تو اسلام کبھی کا سب مذاہب کو کھانہ جاتا ؟ ضرور کھا جاتا۔مگر چونکہ دوسرے مذاہب والوں نے بچپن میں ہی ماں کی گود میں بیٹھ کر یہ سنا ہوا ہے کہ اسلام جھوٹا ہے۔اس لئے باوجود ہزاروں دلیلوں کے پھر بھی نہیں مانتے۔اگر تم لوگ اپنی آئندہ نسلوں میں احمدیت دیکھنا چاہتے ہو تو ان ماؤں کو پورا پورا احمدی بناؤ۔اور احمدیت سے خوب واقف کرو۔یاد رکھو اگر تمہاری آئندہ نسلوں میں احمدیت نہ رہی تو تمہاری اس وقت کی ساری کوشش اور محنت ضائع جائے گی۔کیونکہ انسان تو پچاس ساٹھ یا زیادہ سے زیادہ سو سوا سو سال کے عرصہ تک مرجاتا ہے۔اگر اس کی جگہ لینے والا کوئی اور نہ ہوا تو وہ خالی ہو جائے گی۔میرے چھوٹے بھائی میاں بشیر احمد نے مجھے ایک بات سنائی کہ گورنمنٹ