انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 124

رالعلوم جلد - ۳ ۱۲۴ کتاب تو حضرت مسیح موعود بھی لائے ہیں۔دور جانے کی ضرورت نہیں پیغامیوں میں سے ہی ایک شخص نے حضرت مسیح موعود کے الہامات کا مجموعہ تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔حضرت مسیح موعود تو اپنے متعلق لکھتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا۔اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا۔اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دئیے " چشمه معرفت صفحه ۳۱۷ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۲) لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسا انسان جس پر اتنے نشانات اترے کہ ان سے ہزاروں نبیوں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے وہ خود نبی نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ سب باتیں اپنے پاس سے بنالی ہیں۔اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدر کو نہیں سمجھا۔خدا تعالی کافروں کی نسبت قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِم - (الانعام : ٩٢) یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدر کو نہیں سمجھا اور یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے اس لئے کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔اسی طرح یہ کہتے ہیں کہ خواہ کتنا ہی زہد اور اتقاء میں بڑھ : جائے پر ہیزگاری اور تقویٰ میں کئی نبیوں سے آگے گزر جائے معرفت الہی کتنی ہی حاصل کرلے لیکن خدا اس کو کبھی نبی نہیں بنائے گا اور کبھی نہیں بنائے گا۔ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے اور ایک ایسا انسان جو اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے جو حضرت یحی اور یوحنا وغیرہ انبیاء کا تھا وہ نبی بن سکتا ہے۔وہ تو حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق کہتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ اب بھی نبی بن سکتا ہے۔دنیا میں جب ضلالت اور گمراہی اور بے دینی پھیل سکتی ہے تو نبی کیوں نہیں۔سکتا۔جس جس وقت ضلالت اور گمراہی پھیلتی رہی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ کو بھلا دیتے رہے ہیں اور فسق و فجور میں پھنس جاتے رہے ہیں۔اس وقت نبی آتا رہا ہے۔اسی طرح اب بھی جب ایسا ہو گا کہ دنیا خدا تعالیٰ کو چھوڑ دے گی آنحضرت ا کو بھلا دے گی اور گند اور پلیدیوں میں مبتلا ہو جائے گی اس وقت نبی آئے گا اور ضرور آئے گا۔لیکن وہ کوئی اور شریعت نہیں لائے گا بلکہ آنحضر الہی کی شریعت کو پھیلائے گا۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی نبی