انوارالعلوم (جلد 3) — Page 60
پیغام مسیح موعود نے وعدہ کیا تھا کہ اگر لوگ ہم پر سختی کرنا چھوڑ دیں تو ہم بھی چھوڑ دیں گے۔درنہ بعض اوقات سختی کا جواب سختی سے ہی دینا پڑتا ہے۔کیونکہ اگر جواب نہ دیا جائے تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس جواب ہی نہیں۔پس اگر مختلف مذاہب کے لوگ اس بات میں ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ ہو جائیں تو میں اپنی جماعت کی طرف سے جو کئی لاکھ ہے۔اور جس کا میں واحد امام ہوں اپنی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ گالیوں کو ترک کر کے نرمی اور آشتی کی طرف ایک قدم بڑھا ئیں گے میں دس قدم بڑھاؤں گا اور جو ہماری طرف ایک ہاتھ بڑھے گا ہم اس کی طرف دس ہاتھ بڑھیں گے۔جدائی کا باعث ہمیشہ سختی اور دل آزاری ہی ہوا کرتی ہے چنانچہ ہمارے اپنے اندر سے ہی جب ایک گروہ نے سختی کی تو باوجود ہزاروں اتحاد کے پہلوؤں کے ہمیں ان سے جدا ہونا پڑا۔پس جب اپنے بھی گالیاں دیں تو ان سے علیحدگی ہو جاتی ہے۔تو غیر تو پھر غیر ہی ہیں۔لیکن سوچنا چاہئے کہ اس نا اتفاقی اور لڑائی جھگڑے کی وجہ سے کس قدر فساد بڑھ رہا ہے اور اس کے دور کرنے کے لئے کتنی قربانی کی ضرورت ہے۔ایک طرف اس فساد کو رکھو اور دوسری طرف اس قربانی کو۔تو معلوم ہو جائے گا کہ فساد کے مقابلہ میں اس قربانی کو جو مختلف مذاہب کے لوگوں کو کرنی پڑے گی کچھ نسبت ہی نہیں۔کیونکہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو گالیاں دینے سے کسی مذہب کو حقیقتاً کوئی فائدہ نہیں۔مثلاً اگر کوئی ہندو یا آریہ آنحضرت کو گالی دے تو اسے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔گالی تو زندہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی فوت شدہ کا کیا بگاڑے گی۔پھر اس انسان کا جس کو خدا تعالیٰ نے پاک اور مطہر ٹھہرایا کیا بگڑ سکتا ہے اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔مگر اس سے مسلمانوں کے دلوں میں ایسا ناسور پڑ جاتا ہے کہ کوئی مرہم اسے بند نہیں کر سکتی۔کیونکہ مسلمان یہ تو پسند کر لیں گے کہ ان کے سامنے ان کے بیوی بچوں کو قتل کر دیا جائے ان کے مال و اموال کو چھین لیا جائے ان کی گردنوں پر کند چھری ردنی جائے لیکن یہ کبھی پسند نہیں کریں گے کہ اس رسول کو جس کے ذریعہ انہیں ہدایت نصیب ہوئی کوئی برا لفظ کہا جائے۔پس جو شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے۔اس کے مذہب کو یا اس کو اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اس عمل سے مسلمانوں کو اس سے اور اس کے ہم مذہبوں سے ضرور نفرت ہو جائے گی جس کا نتیجہ خطرناک ہو گا۔اسی طرح اگر مسلمان کریں کہ رام چندر جی یا کرشن جی کو برا بھلا کہیں تو ان کو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔مگر اس سے یہ ضرور ہو گا کہ ان کے اہل وطن کے دلوں پر ایسا۔