انوارالعلوم (جلد 3) — Page 59
علوم چاند - ۳ ۵۹ پیغام مسیح موعود ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مختلف مذاہب کے لوگوں کو اس طرف بلانا کہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی بجائے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرو در حقیقت امن عامہ کیلئے راستہ صاف کرنا تھا اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے میں آپ لوگوں کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔اور چاہتا ہوں کہ مختلف مذاہب کے لوگ سکھ ، ہندو، مسیحی ، آریہ ، ناتنی اور غیر احمدی جو اس وقت یہاں موجود ہیں اپنی اپنی جگہوں پر اس بات پر غور کریں کہ آپس میں گالیاں دینے کا کیا فائدہ ہے۔حق کے اظہار کے لئے گالیاں دینے کی ضرورت نہیں۔گالیوں سے سوائے عناد اور بغض کے ترقی کرنے کے اور آپس میں فساد ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ترقی جو دین و دنیا میں ہم لوگ کر سکتے ہیں پیچھے اور پیچھے ہی پڑ رہی ہے۔جبکہ وہی باتیں جو کہ سختی اور فحش کلامی کے ساتھ کسی جاسکتی ہیں نرمی سے بھی کہی جاسکتی ہیں تو کیوں اس مفید طریق کو چھوڑ کر اس گندے رویہ کو اختیار کیا جائے جن سے دین و دنیا کا نقصان ہے۔دین کا تو اس لئے کہ جب اس میں عناد پیدا ہو جائے۔تو دوسرے کی بات پر غور کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہی نہیں۔اور دنیا کا اس لئے کہ اس فساد کا باعث یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی ملک میں رہنے والی اقوام باوجود قرب مکانی کے ایک دوسرے سے ایسی بعید رہتی ہیں کہ ان فوائد سے جو متحدہ کوششوں سے حاصل ہو سکتے ہیں محروم ہو جاتی ہیں۔اور یہ خیال کرتا کہ بعض لوگ باوجود اس اختلاف کے مل کر کام کرتے ہیں درست نہیں۔کیونکہ اگر بعض لوگ اپنے مذہب سے دلی طور پر تنظر رکھنے کی وجہ سے دوسرے کی گالیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے یا مذہب پر دنیا کو مقدم رکھتے ہیں تو ان کی حالت پر سب کا قیاس کر لینا درست نہیں۔جب تک دو قوموں میں کثرت ان لوگوں کی نہ ہو۔جو ایک دوسرے سے بجائے نفرت رکھنے کے محبت رکھتے ہوں۔اس وقت تک ان میں صلح نہیں ہو سکتی۔چند آدمیوں کی کوششیں خواہ وہ کتنے ہی عالی رتبہ کیوں نہ ہوں کبھی بار آور نہیں ہو سکیں گی۔اور چونکہ اکثر لوگ دین کی محبت رکھنے والے ہوتے ہیں جب تک مذہبی تنافر دور نہ ہو کبھی دو قوموں میں صلح نہیں ہو سکتی۔اور مذہبی تنافر دور کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ سخت کلامی اور فحش گوئی سے پر ہیز کیا جائے۔پس ہندوستان کے موجودہ اختلافات اور بغض و عناد کے دور کرنے کیلئے ایک ہی تجویز ہے کہ ایک دوسرے کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا مذہبی جھگڑوں کے انسداد کی تجویز ترک کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام