انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 44

العلوم جلد۔سمسم پیغام مسیح موعود کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔اگر ہندوستان کا رب ہے تو عرب کا بھی رب ہے۔اگر یورپ کا ب ہے تو افریقہ کا بھی رب ہے۔اگر ایران کا رب ہے تو شام کا بھی رب ہے۔غرضیکہ دنیا کے تمام حصص کا رب ہے اور زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں ہیں ان سب کا رس ہے۔کوئی چیز کوئی ملک کوئی علاقہ ایسا نہیں جس کا کوئی اور رب ہو اس لئے فرمایا کہو رب DOWNLOALKANG ہم اس خدا کو پیش کرتے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور جس کی ربوبیت کسی خاص چیز سے تعلق نہیں رکھتی۔مثلاً اس کا سورج ہے وہ کبھی ایسا نہیں چڑھے گا کہ اس کی روشنی صرف مسلمانوں تک ہی محدود ہو اور عیسائی ، ہندو یہودی وغیرہ مذاہب کے لوگ اس سے محروم رہیں یا اس کی روشنی صرف عیسائیوں کو ہی پہنچے یا صرف ہندوؤں کے لئے ہو یا کسی اور خاص مذہب کے لوگوں کے لئے ہو بلکہ سب لوگوں کے لئے ہے۔خواہ کوئی مومن ہو یا کافر، ہندو ہو یا عیسائی ، دہریہ ہو یا خدا پرست جو کوئی بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہے اس کے لئے آزادی ہے لیکن اگر کوئی دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ رہے یا اپنی غلطی سے آنکھوں کو ضائع کر لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔خدا تعالیٰ کا سورج اس پر روشنی کو بند نہیں کرتا۔میں اس آیت کے متعلق جب نقشہ کھینچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ انسان غلہ ہوتا ہے بیل اس کے ساتھ کام کرتے ہیں اور وہ سارا سارا دن ان سے کام لیتا ہے ہل چلاتا ہے پانی دیتا ہے۔اگر سال کے بعد کھیت سے تمام عملہ ہی غلہ پیدا ہوتا اور بھوسہ نہ ہوتا تو انسان ایسا حریص ہے کہ بیلوں کو دانہ نہ ڈالتا اور سب کے سب غلہ کو اپنے کام میں ہی لے آتا لیکن خدا جس طرح انسانوں کا رب ہے اسی طرح حیوانوں کا رب ہے اس نے اگر انسانوں کے لئے دانہ پیدا کیا ہے تو ساتھ ہی حیوانوں کے لئے بھی بھوسہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ محنت کرنے میں انسان اور حیوان دونوں شریک ہیں۔اگر حیوانوں کے لئے الگ حصہ نہ رکھا گیا تو انسان اپنی ضروریات سے مجبور ہو کر انہیں محروم کر دے گا۔جیسا کہ پہلے زمانہ میں حیوانوں کے چرنے کے لئے بڑی بڑی چراگاہیں چھوڑی جاتی تھیں لیکن اب ان کو کھیتی باڑی کے کام میں استعمال کیا گیا ہے اور بہت کم چراگاہیں باقی رہ گئی ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے جس طرح کھیت سے دانہ نکالا ہے اسی طرح حیوانوں کے پیٹ کے موافق بھوسہ بھی نکالا ہے اسی طرح ہر ایک چیز میں دیکھ لو۔مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ اگر میووں وغیرہ میں بیج الگ نہ ہوتا تو انسان سارے کے سارے میوہ کو ہی کھا جاتے اور آگے پیدا ہونے کے لئے بیج بھی نہ رہنے دیتے لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا سامان کر دیا ہے