انوارالعلوم (جلد 3) — Page 43
م جلد - ۴۳ پیغام مسیح موعود کرے گا پھر جس کی نسبت مختلف نبیوں نے خبر دی ہے اور ہر ایک مذہب والے اس کے منتظر بیٹھے ہیں۔عیسائی صاحبان ، ہند و صاحبان یہودی اور پاری صاحبان سب مانتے ہیں کہ ہماری کتابوں میں آخری زمانہ میں آنے والے کی پیشگوئی موجود ہے۔چینی یہاں کوئی موجود نہیں لیکن اگر کسی چینی سے دریافت کرو گے تو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے ہاں بھی آخری زمانہ میں آنے والے کی پیشگوئی موجود ہے۔پس جب تمام مذاہب کا اس پر اتفاق ہے تو ضرور اس میں خدا تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت ہے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں یہ سب ڈھکوسلے ہیں نہ کوئی آیا نہ آئندہ آئے گا اور نہ آسکتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ کیا ڈھکوسلے ایسے ہی ہوتے ہیں جو مختلف ملکوں میں اور مختلف مذاہب کی کتابوں میں پھیل جاتے ہیں۔اگر یہ بات صرف حضرت مسیح کی کتاب میں ہوتی تو کوئی کہہ سکتا تھا ڈھکوسلا ہے۔اگر صرف دانیال کی کتاب اس خبر کو شائع کرنے والی ہوتی تو کوئی کہہ سکتا تھا ڈھکوسلا ہے۔لیکن مختلف نبی جو مختلف ممالک میں آئے اور مختلف کتابیں لائے انہوں نے متفق ہو کر یہ خبر دی کہ آخری زمانہ میں دنیا میں ایک نبی آئے گا اور اس کے ظہور کا وقت وہ ہو گا جب دنیا میں خطرناک جنگیں ہوں گی اور دنیا ان کے ذریعہ سے ہل جائے گی اس کے بعد اس آنے والے کے ذریعہ سے دنیا میں امن اور صلح قائم ہوگی۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ مختلف ممالک کے انبیاء ایک آنے والے کی ایک زبان ہو کر خبر دیں اور ان سب کا قول ڈھکو سلا کہلائے وہ انبیاء آپس میں کب اکٹھے ہوئے کہ سب نے مل کر ایک بات بنائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو پیغام میں سنانے کے لئے حضرت مسیح موعود کا پیغام کھڑا ہوا ہوں۔وہ نیا بھی نہیں اور پرانا بھی نہیں۔نیا تو اس لئے نہیں کہ وہ وہی پیغام ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مرسل ہمیشہ سے سناتے آئے ہیں اور پرانا اس لئے نہیں کہ اس وقت دنیا اس پیغام کو اس طرح بھول گئی ہے کہ گویا بھی بھیجا ہی نہیں گیا۔دنیا کا کوئی مذہب نہیں جس میں وہ پیغام نہیں بھیجا گیا۔ہر مذہب میں اس کی تعلیم موجود ہے مگر اب دنیا اسے بھول گئی ہے اور ایک لفظ بھی یاد نہیں ، اس لئے نیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف زمانہ میں مختلف نبی آئے ہیں اور ایسا اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہی ہونا چاہئے تھا۔قرآن شریف شروع ہی اس طرح ہوتا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحه : (۲) تمام تعریفیں خدا کے لئے ہیں۔کیوں ؟ اس لئے