انوارالعلوم (جلد 3) — Page 596
انوار العلوم جلد - ۳ ۵۹۶ زندہ نے جب جس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اس میں مردہ جلانے کا جو طریق بتایا گیا ہے اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ وہ کہتا ہے کہ جس قدر مردہ کا وزن ہو اسی قدر مقدار میں گھی اس کے ساتھ جلانا چاہئے۔ یعنی اگر کوئی ڈھائی تین من کا کا مردہ مردہ ہو ہو تو تو اتنا اتنا ہی ہی گھی اس کے اوپر ڈال کر جلانا چاہئے۔ اس اس کے علاوہ صندل اور دیگر کئی ایک قیمتی چیزوں کو ساتھ جلانے کا حکم ہے۔ مگر ہر ایک انسان اس پر کہاں عمل کر سکتا ہے۔ غریبوں اور مفلسوں کے لئے تو اس پر عمل کرنا نا ممکن ہے۔ اور ہو نہیں سکتا کہ وہ اپنے مردہ کو اس طریق سے جلا سکیں۔ حالانکہ بتایا جاتا ہے کہ یہ دید کا حکم ہے جس پر عمل کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ مگر دنیا میں تو غریب بھی بستے ہیں اور امیر بھی بلکہ غریبوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لیکن غریب تو اس پر عمل نہیں کر سکتے۔ پھر کیا مذہب صرف امیروں کے لئے ہے۔ اگر صرف امیروں کے لئے ہے تو بیچارے غریب کہاں جائیں۔ لیکن زندہ مذہب تو ایسا ہونا چاہئے کہ جس پر سب امیر و غریب یکساں طور پر عمل کر سکیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس مذہب والوں کا کثیر حصہ اس پر عمل نہیں کر سکتا۔ اس لئے یہ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح اس مذہب میں ہون کی جو عبادت قرار دی گئی ہیں۔ ایسے طریق بتائے گئے ہیں کہ ایک ایسا شخص جو چار پانچ آنے بمشکل روزانہ کماتا ہے وہ ان پر ہرگز عمل نہیں کر سکتا۔ اور اگر کرے تو پھر اس کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں رہے گا۔ تو کسی مذہب کے وہی احکام قابل قبول ہو سکتے ہیں جس پر عمل کیا جا سکے۔ ورنہ ! ورنہ یوں وہ خواہ خواہ کیسے ہی اچھے اور بھلے معلوم دیں کسی کام کے نہیں ہیں۔ یہ تو ہم مان لیں گے کہ تیسیا سے یہ فائدے ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی اقرار کر لیں گے کہ ہون سے ہوا صاف ہوتی ہے بادل آتے ہیں۔ اور یہ بھی ہم یقین کر لیں گے کہ کشمیر میں جو بارشیں ہوتی ہیں وہ اسی کانگڑی کی وجہ سے ہوتی ہیں جو وہاں جلائی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس پر اس مذہب کے کتنے لوگ ہیں جو عمل کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ عمل ہی نہیں کر سکتے تو خواہ بظاہر وہ تعلیم کیسی ہی خوشنما نظر آئے اور اس کے کیسے ہی فوائد بتائے جائیں ہمارے لئے اس کا کیا فائدہ؟ ہمیں تو اس مذہب کی ضرورت ہے جو ہمارے کام آئے اور ہم اس کی تعلیم پر عمل کر کے فائدہ حاصل کر سکیں۔ اگر یہ نہیں تو ایسا مذہب اس شگوفہ کی طرح ہے جو ایک اونچی جگہ لٹکا دیا جائے اور بچہ کو کہا جائے کہ اس کو پکڑو۔ وہ بیچارہ اس کو کہاں پکڑ سکے گا۔ اور جب پکڑ نہیں سکے گا تو اس کے لئے وہ فضول ہے۔ پس ایک ایسا مذہب جس کے احکام پر ہم عمل نہیں کر سکتے وہ خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا اپنے