انوارالعلوم (جلد 3) — Page 557
انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۵۷ زندہ خدا کے زبر دست نشان یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے * اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیروزبر رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا ہمار تالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آپ رودبار صبح کر دے گی انہیں مثل درختان چنار بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس اک نمونہ قہر کا ہو گا وہ ربانی نشان ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفینہ ناشناس ومی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و بے خود راہوار سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار اس پہ ہے میری سچائی کا بھی دارو مدار کچھ دنوں کر صبر ہو کر متقی اور بردبار یہ گماں مت کر کہ یہ سب بدگمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا ادهار اسی طرح یہ کہ "کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کشتیاں" (الهام 11۔ مئی ۱۹۰۶ءر تذکرہ صفحہ ۱۱۵) یعنی جہاز کثرت سے ادھر ادھر چلیں گے تاکہ لڑائی ہو۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ جنگ میں جہازوں کا بہت بڑا دخل ہے کیونکہ ان کے ذریعہ سے مختلف علاقوں کی فوجوں کو جنگ کے مختلف میدانوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ حتی کہ اس کی نظیر تاریخ عالم میں بالکل نہیں ملتی ۔ پھر آب روز جهاز نهایت خطرناک تباہی کر رہے ہیں۔ اسی طرح بحری محاصرہ کے باعث جو اپنی نظیر آپ ہی ہے ہر وقت ہزاروں چھوٹے بڑے جہاز اس جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں کہ ان کی مثال پہلے خدا تعالی کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایساز نزلہ ہو گا جو نمونہ قیامت ہو گا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہئے جس کی طرف سورة إذا زلزلت الأَرْضُ الزَالَهَا اشارہ کرتی ہے۔ ا اشارہ کرتی ہے۔ لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کاذب گھرونگا مگر میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ شدید آفت جس کو خداتعالیٰ نے زلزلہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے صرف اختلاف مذہب پر کوئی اثر نہیں رکھتی اور نہ ہندو یا عیسائی ہونے کی ہونے کی وجہ سے کسی پر عذاب آس کسی پر عذاب آسکتا ہے اور نہ اس وجہ سے آسکتا ہے کہ کوئی میری بید میری بیعت میں داخل نہیں یہ سب لوگ اس تشویش سے محفوظ ہیں۔ ہاں جو شخص خواہ کسی مذہب کا پابند ہو جرائم پیشہ ہونا اپنی عادت رکھے اور فسق و فجور میں غرق ہو اور زانی خونی چور ظالم اور ناحق کے طور پر بد اندیش بد زبان اور بد چلن ہو اس کو اس سے ڈرنا چاہئے اور اگر توبہ کرے تو اسکو بھی کچھ غم نہیں اور مخلوق کے نیک کردار اور نیک چلن ہونے سے یہ عذاب مل سکتا ہے قطعی نہیں کے منہ (براہین احمدیہ جلد پنجم صفحه ۱۲۰- روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۱۵۱)