انوارالعلوم (جلد 3) — Page 518
۵۱۸ ذکرائی خیالات اور جذبات کا اثر دوسری چیزوں پر پڑتا ہے اور وہ ایک راستہ کے طور پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ا یہ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے جسم پر پھونکتے تھے۔کیا یہ لغو ہی تھا ؟ ہرگز نہیں۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خیالات کا اثر اعصاب کے ذریعہ آواز کے ذریعہ پھونک کے ذریعہ خیالات سے منتقل ہوتا ہے۔پس رسول کریم اے ان تینوں طریق کو جمع کر لیتے۔آیہ الکرسی منہ سے پڑھتے پھر ہاتھوں پر پھونکتے پھر ہاتھ سارے جسم پر پھیر لیتے۔غرض آواز اعصاب نظر اور پھونک وغیرہ خیالات کے باہر نکلنے کے راستے ہیں اسی وجہ سے دم کرنا بھی صلحاء سے ثابت ہے بلکہ رسول کریم ال سے بھی مروی ہے۔پس چونکہ اعصاب کے ذریعہ خیالات نکلتے اور پراگندہ ہو جاتے ہیں ان کو قابو میں رکھنے کے لئے آنحضرت ا نے وضو کا حکم دیا ہے۔اور چونکہ ان کے نکلنے کے بڑے بڑے مرکز ہاتھ پاؤں اور منہ ہیں۔اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب ان پر پانی ڈالا جائے تو خیالات کی رو جو ان سے نکل رہی ہوتی ہے وہ بند ہو جاتی ہے اور خیالات نکلنے رک جاتے ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ مسئلہ ہے۔اور وضو کی اغراض میں ایک یہ غرض بھی ہے۔وضو میں اور بھی کئی ایک علمتیں ہیں لیکن ایک یہ بھی ہے کہ اس طرح خیالات کی رورک جاتی ہے اور جب رو رک جاتی ہے تو سکون حاصل ہو جاتا ہے اور جب سکون حاصل ہو جاتا ہے تو توجہ قائم رہ سکتی ہے۔پس وضو توجہ کے قائم رکھنے کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے۔لیکن جب وضو کرنے بیٹھو تو ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھو کہ ہم ایسا پراگندہ خیالات کے روکنے کے لئے کر رہے ہیں۔جب ایسا کرو گے تو نماز میں سکون حاصل ہو جائے گا اور خیالات تمہاری توجہ کو پراگندہ نہیں کر سکیں گے۔توجہ کے قائم کرنے کا وہ ہے جو شریعت اسلام نے مسجد میں نماز پڑھنے کو قرار | دو سرا طریق دیا ہے۔انسان کا خاصہ ہے کہ جب وہ ایک بات کو دیکھتا ہے تو اس سے اسے دوسری کا خیال پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص زید سے ملتا ہے تو اس کے لڑکے بکر کے متعلق بھی اس سے پوچھتا ہے۔حالانکہ بکر اس کے سامنے نہیں ہو تا مگر زید کو دیکھ کر ہی اسے بکر بھی یاد آجاتا ہے۔تو انسان کے دماغ کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ جب ایک چیز اس کے سامنے آئے تو اس تعلق رکھنے والی دوسری چیزوں کی بھی اسے یاد آجاتی ہے۔پس اگر انسان ایک ایسی جگہ نماز ادا کرے جس کا نماز سے خاص تعلق نہ ہو تو اسے کوئی خاص بات یاد نہ آئے گی مگر جب ایسی جگہ نماز پڑھے گا جہاں صبح و شام خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔اور جو خدا کا گھر کہلاتی