انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 519

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۱۹ ذکراتی ہے تو اسے ضرور یہ خیال آئے گا کہ میں اس خدا کے حضور میں کھڑا ہوا ہوں جس کی عبادت کرنے کے لئے یہ جگہ بنائی گئی ہے اور مجھ پر فرض ہے کہ میں سچے دل سے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کروں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کے لئے ایک خاص جگہ مقرر کر چھوڑیں اور وہاں نماز پڑھنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کریں تاکہ وہاں نماز پڑھتے ہوئے یہ خیال آئے کہ یہ خدا تعالٰی کی عبادت کرنے کا مقام ہے یہ ممکن ہے کہ آپ میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں مسجد میں جاکر بھی کبھی یہ خیال نہ آیا ہو۔لیکن اب جبکہ مسجد میں نماز پڑھنے کی حکمت معلوم ہو گئی اور یہ خیال لے کر مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گئے تو آپ کے خیالات فورا رک جائیں گے اور سکون حاصل ہو جائے گا۔قبلہ کی طرف منہ کرنے کا جو حکم ہے وہ بھی توجہ کے قائم رکھنے کے لئے بہت محمد تیسرا طریق ہوتا ہے۔مکہ معظمہ میں کئی ایک خصوصیتیں ہیں۔اس جگہ ایک شخص نے اپنی بیوی اور بچہ کو بغیر دانہ پانی اور بغیر آبادی اور کسی حفاظت کے خدا کے حکم کے ماتحت چھوڑ دیا تھا اور چونکہ یہ کام خدا کے لئے اس نے کیا تھا خدا تعالیٰ نے اس کی نسل کو اس قدر بڑھایا کہ آسمان کے ستاروں کی طرح گنی نہیں جا سکتی پھر اس کی نسل میں سے کئی ایک نبی پیدا ہوئے اور آخر وہ انسان جو سب دنیا کی طرف نبی ہو کر آیا وہ بھی اسی کی نسل سے تھا۔تو جب کوئی مکہ کی طرف منہ کر کے نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اسے یہ حکمت بھی معلوم ہو کہ ادھر منہ کر کے نماز پڑھنا کیوں مقرر کیا گیا ہے تو اس پر فوراً حضرت اسمعیل علیہ السلام کے واقعہ کا اثر ہوتا ہے اور اس بات کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے کہ جس خدا کی عبادت میں کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں وہ بڑی شان اور بڑی قدرت والا ہے۔جب اسے یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے پراگندہ خیالات دور ہو جاتے اور خدا تعالیٰ کے رعب اور جلال سے دب کر بیٹھ جاتے ہیں۔رسول کریم اے نے اذان مقرر کی ہے۔جب بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر چوتھا طریق کہا جاتا ہے۔تو گو اسی وقت نماز شروع نہیں ہو جاتی مگر نماز پڑھنے والوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ تم خوب سوچ سمجھ کر مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آجانا۔کیونکہ تم نے بڑے عظیم الشان خدا کے حضور پیش ہونا ہے۔پس جب کوئی اذان سنے گا تو اس پر خدا تعالیٰ کی عظمت اور شان کا خاص رعب پڑے گا اور اس کی وجہ سے نماز میں اس کی توجہ قائم رہے گی۔ے مشکواۃ کتاب المناسك باب المساجد ومواضع الصلواة