انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 516

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۱۶ ذکر الهی اسلام نے کہا ہے کہ کھاؤ پیو مگر حد سے نہ بڑھو کیوں نہ بڑھو اس لئے کہ شہوانی جذبہ زیادہ بڑھ کر روحانیت کو نقصان پہنچائے گا۔ پس وہ لوگ جو اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں وہ اگر اکٹھے سوئیں تو کوئی حرج نہیں ہوتا مگر عام لوگوں کو اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔ اور وہ لوگ جنہیں اپنے خیالات پر پورا پورا قابو نہ ہو ان کو اکٹھا نہیں سونا چاہئے۔ اس طرح ان کو شہوانی خیالات آتے رہیں گے۔ اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوتے سوتے جماع کرنے یا پیار کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس طرح روحانیت پر برا اثر پڑتا ہے۔ اور اٹھنے میں سستی ہو جاتی ہے۔ ایسا اعلیٰ ہے کہ جو نہ صرف تجد کے لئے اٹھنے میں بہت بڑا ممد اور معاون بچ جاتا تیرھواں طریق ہے بلکہ اس پر عمل کرنے سے انسان بدیوں اور برائیوں سے بھی بچ ہے اور وہ یہ ہے کہ سونے سے پہلے دیکھنا چاہے کہ ہمارے دل میں کسی کے متعلق کینہ یا بغض تو نہیں ہے اگر ہو تو اس کو دل سے نکال دینا چاہئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روح کے پاک ہونے کی وجہ سے تہجد کے لئے اٹھنے کی توفیق مل جائے گی خواہ اس قسم کے خیالات ان پر پھر قابو پاہی لیں۔ لیکن رات کو سونے سے پہلے ضرور نکال دینے چاہئیں اور دل کو بالکل خالی کر لینا چاہئے۔ اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اگر کوئی ایسے خیالات میں دنیاوی فائدہ سمجھتا ہے تو دل کو کہے کہ دن کو پھر یاد رکھ لینا رات کو سونے کے وقت کسی سے لڑائی تو نہیں کرنی کہ ان کو دل میں رکھا جائے ۔ اول تو ایسا ہو گا کہ اگر ایک دفعہ اپنے دل سے کسی خیال کی جڑھ کاٹ دی جائے گی تو پھر وہ آئے گا ہی نہیں۔ دوسرے اس قسم کے خیالات رکھنے سے جو نقصان پہنچنا ہوتا ہے اس سے انسان محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ ایک چیز جس قدر زیادہ عرصہ دوسرے کے ساتھ رہتی ہے اس قدر زیادہ اپنا اثر اس پر کرتی ہے۔ مثلاً اگر اسپینج کو پانی سے بھر کر کسی چیز پر جلدی سے پھیر کر ہٹالیا جائے تو وہ بہت تھوڑی گیلی ہوگی۔ لیکن اگر دیر تک اس پر رکھا جائے تو وہ بہت زیادہ بھیگ جائے گی۔ اسی طرح جو خیالات انسان کو دیر تک رہیں وہ اس کے دل میں بہت زیادہ جذب ہو جاتے ہیں اور سوتے وقت جن خیالات کو انسان اپنے دل میں رکھے ان کو اس کی روح ساری رات دہراتی رہتی ہے۔ دن میں اگر کوئی ایسا خیال ہو تو وہ اتنا نقصان دہ نہیں ہوتا جتنا رات کے وقت کا۔ کیونکہ ان میں دوسرے رے کاروبار میں مشغول ہونے کی وجہ وہ بھلا دیتا ہے لیکن رات کو بار بار آتا سے وہ ہے۔ پس سوتے وقت اگر کوئی برا خیال ہو ۔ تو اسے نکال دینا چاہئے تاکہ وہ دل میں گڑ نہ جائے۔