انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 27

۲۷ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب غرض جب کافر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ جس شخص کی نسبت وہ لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ کم سے کم ایک بڑے حق کا انکار کر رہا ہے اور جبکہ اسکے صرف یہ معنی ہیں تو کیسی خلاف عقل بات ہو گی اگر ہم اپنے مخالف سے جس کے نزدیک ہمارا اور اس کا اصولی اختلاف ہے یہ امید رکھیں کہ وہ ہماری نسبت یہ اعلان کرے کہ ہم کسی حق کا انکار نہیں کرتے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہم کافر نہیں ہیں۔ہم اس کو یہ تو ضرور کہیں گے کہ ہمیں کافر کہنے پر تم غلطی پر ہو اور ہم میں سب شرائط اسلام پائی جاتی ہیں اور تم کو بھی چاہئے کہ اس حق کو قبول کرو جو ہمارے پاس ہے لیکن جب تک وہ اپنے عقائد پر قائم ہے وہ ہمیں کافر کے سوا اور کچھ نہیں سمجھ سکتا پس جو شخص احمدی ہوتا ہے اسے اگر دوسرے لوگ کافر کہتے ہیں تو انہیں ایسا کہنے دے اور ان کو سمجھائے کہ میں حقیقی اسلام پر ہوں اور ان لوگوں کا حق ہے کہ اپنے عقائد کے مطابق اسے کافر ہی سمجھیں جب ان کے مذہب کے رو سے واقعہ میں اس نے ایک جھوٹے مدعی کو قبول کیا ہے تو وہ اسے حق پر کس طرح کہہ سکتے ہیں اور اگر یہ واقعہ میں حق پر ہے تو لوگوں کے یہ سمجھ لینے سے کہ یہ باطل پر ہے اسے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔اگر ۲۔آپ کا دوسرا سوال یہ ہے: کوئی شخص احمدی ہو جائے تو اسے گل مسجدوں سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔اور ایک فرض کو ترک کرنا پڑے گا جو جائز نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کی بناء صرف خیالات پر نہیں اور اسلام انسان کو رسومات میں گرفتار کرنے نہیں آیا۔بلکہ اسلام میں جس قدر احکام ہیں ان سب کی غرض اطاعت الہی ہے اور کوئی کام اپنی ذات میں ثواب کا مستحق انسان کو نہیں بنا دیتا بلکہ اطاعت الہی انسان کو ثواب کا مستحق بناتی ہے نماز کیسی اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے اور عملی شریعت کے ارکان میں سے ہے لیکن اگر کوئی شخص سورج نکلتے وقت یا سورج ڈوبتے وقت نماز پڑھے تو یہی عبادت گناہ ہو جاتی ہے۔روزہ قرب الہی کا ذریعہ ہے لیکن عید کے دن روزہ رکھنے والا شیطان ہو تا ہے پس کوئی عمل در حقیقت فی ذاتہ اچھا نہیں بلکہ عمل وہی اچھا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کا مستحق بنا دے۔جنگ احزاب میں آنحضرت ا کو چار نمازیں اکٹھی پڑھنی پڑیں حالانکہ قرآن کریم میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں مگر آپ کا یہ فعل شریعت اسلام کے خلاف نہ تھا۔نہ قرآن کریم