انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 506

انوار العلوم جلد - ۳ ۵۰۶ کرالی کر دیتا ہے۔اسی طرح ذکر کا حد سے زیادہ بڑھانا بھی نفس پر ایسا بوجھ ہو جاتا ہے کہ وہ ذکر سے متنفر ہو جاتا ہے۔پس آہستہ آہستہ نفس پر بوجھ ڈالنا چاہئے اور اس قدر ڈالنا چاہئے جس کو برداشت کر سکے۔تیسری احتیاط یہ کرنی چاہئے کہ ابتداء میں اگر طبیعت ذکر کی طرف متوجہ نہ ہو۔تو بھی دل کو مضبوط کر کے انسان کرتا رہے اور پختہ ارادہ کرلے کہ ضرور پورا کروں گا اور نیت کرلے کہ شیطان کتنا ہی زور لگائے میں اس کی بات ہرگز ہرگز نہیں مانوں گا۔اگر انسان اس طرح ارادہ کر لے تو ضرور طبیعت کو منوالیتا ہے۔کہتے ہیں رائے لیکن ایک مشہور وکیل تھا اس کے مقابلہ میں ایک اور وکیل آیا۔اس نے سمجھا کہ رائے لیکن مقدمہ جیت جائے گا۔اس نے یہ چالا کی کی کہ مجسٹریٹ کے ساتھ باتیں کرتے کرتے کہہ دیا کہ رائے لیکن کا دعوی ہے کہ خواہ کوئی مجسٹریٹ کتنا ہی ہوشیار ہو میں اس سے منوا لیتا ہوں۔یہ سن کر مجسٹریٹ نے ارادہ کر لیا کہ رائے لیکن جو کچھ کہے گا میں ہر گز اسے نہیں مانوں گا۔چنانچہ جب مقدمہ پیش ہوا۔تو جو بات رائے لیکن پیش کرے مجسٹریٹ اس کا انکار کر دے۔اور آخر کار دوسرے وکیل کے حق میں ہی فیصلہ کر دیا۔تو جب انسان یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ میں فلاں کا اثر ہرگز نہیں قبول کروں گا تو وہ اس پر قابو نہیں پاسکتا۔پس ابتدائی حالت میں ذکر کرنے کے وقت ایسی ہی حالت بنانی چاہئے۔چوتھی احتیاط یہ ہے کہ ذکر کرتے وقت کسی تکلیف کی حالت میں نہیں ہونا چاہئے مثلاً فرش پر بیٹھے ہوئے کوئی چیز چھتی ہو یا اور اسی قسم کی کوئی تکلیف ہو اس کو دور کر کے ذکر میں مشغول ہونا چاہئے۔پانچویں یہ کہ ایسی حالت بنانی چاہئے کہ مجھے جو کچھ حاصل ہو گا اسے قبول کر لوں گا۔اگر ابتداء میں بے توجہی ہو۔تو بھی کسی نہ کسی وقت ذکر طبیعت میں داخل ہو جائے گا۔چھٹی یہ کہ ذکر تضرع اور خشیت سے کیا جائے۔اگر خشیت پیدا نہ ہو۔تو ایسی صورت بنالے جس سے خشیت ظاہر ہوتی ہے۔کیونکہ بعض باتیں جو ابتداء میں مصنوعی طور پر اختیار کی جاتی ہیں۔آہستہ آہستہ اسی طرح ہو جاتی ہیں۔پس جب کوئی تضرع پیدا کرنے کی کوشش کرتا اور رونے کی طرز بناتا ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ واقعہ میں ایک وقت اس میں تضرع پیدا ہو جاتا ہے۔ایک پروفیسر کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بڑا ہی نرم دل تھا لیکن بعد میں بڑا سخت دل ہو گیا۔اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک دن جو نرمی کے باعث اسے تکلیف ہوئی تو اس نے ارادہ کر لیا کہ