انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 502

انوار العلوم جلد - ۳ ۵۰۲ چاہئے۔ یہ تو ہوئے وہ ذکر جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ذکر الهی اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ان کے کرنے کے طریق کیا ہیں۔ اس ذکر کی دو اور قسمیں کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ ان ذکروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک فرائض دوسرے نوافل ۔ یہاں فرائض کے متعلق کچھ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خدا کے فضل سے ہماری جماعت کے لوگ فرائض کو تو ادا کرتے ہیں۔ باقی رہے نوافل ان کے متعلق کچھ بتانے کی ضرورت ہے۔ لیکن چونکہ یہ مضمون لمبا ہے سردست میں اسکو چھوڑتا ہوں اور یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کس طرح پڑھنا چاہئے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ انسان روزانہ پڑھنے کے لئے قرآن کریم کا ایک حصہ مقرر کرلے کہ اتنا ہر روز پڑھا کروں گا۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کبھی قرآن کریم اٹھایا اور کسی قدر پڑھ لیا۔ بلکہ باقاعدگی اور مقرر اندازہ سے پڑھنا چاہئے۔ بے قاعدہ پڑھنے سے یعنی کبھی پڑھا اور کبھی نہ پڑھا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ پس قرآن کریم کے متعلق چاہئے کہ اس کا ایک حصہ مقرر کر لیا جائے اور اس کو ہر روز پورا کیا جائے وہ حصہ خواہ ایک پارہ ہو یا آدھا یا دو یا تین یا چار پارے ہوں۔ اس کو روزانہ پڑھا جائے اور اس کے پورا کرنے میں کو تاہی نہ کی جائے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو سب سے زیادہ وہ عبادت پسند ہے کہ جس پر انسان درام اختیار کرے اور جس میں ناغہ نہ ہونے دے۔ کیونکہ ناغہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے شوق نہیں ہے اور شوق اور دلی محبت کے بغیر قلب کی صفائی نہیں ہوتی۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی کسی تصنیف میں مشغول ہونے یا کسی اور وجہ سے قرآن کریم نہ پڑھا جائے تو دل تکلیف محسوس کرتا اور دوسری عبادتوں میں بھی اس کا اثر محسوس ہوتا ہے سے اول تو قرآن کریم روزانہ پڑھنا چاہئے۔ دوم چاہئے کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا جائے اور اس قدر جلدی جلدی نہ پڑھا جائے کہ مطلب ہی سمجھ میں نہ آئے۔ ترتیل کے ساتھ پڑھنا چاہئے تاکہ مطلب بھی سمجھ میں آئے اور قرآن کریم کا ادب بھی ملحوظ رہے ۔ سوم جہاں تک ہو سکے قرآن کریم پڑھنے سے پہلے وضو کر لیا جائے گو میرے نزدیک بے وضو پڑھنا بھی جائز ہے۔ ہاں بعض علماء نے بے وضو تلاوت قرآن کو ناپسند کیا ہے۔ میرے نزدیک اس طرح پڑھنا نا جائز نہیں مگر مناسب یہی ہے کہ اثر اور ثواب کو زیادہ کرنے کے لئے وضو کر لیا جائے۔ ایک دوست پوچھتے ہیں کہ اگر قرآن کریم سمجھ میں نہ آئے تو کیا کیا جائے۔ ایسے لوگوں کو شكواة - كتاب الإيمان باب القصد في العمل