انوارالعلوم (جلد 3) — Page 22
دم جلد ۳۰ ۲۲ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب (۲) احمدی لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے اور اس لئے غیر احمدی بھی ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔اس طرح مجھے تمام اسلامی مساجد سے قطع تعلق کرنا پڑے گا۔حالانکہ ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ پنجوقتہ جماعت کے ساتھ قریب کی مسجد میں نماز پڑھے اور جمعہ کی نماز جامع مسجد میں ادا کرے۔(۳) اس صورت میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ احمدی نام اختیار کرنے سے مجھے کس قدر تکلیف اٹھانی پڑے گی قرآن کریم ہمیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا قرآن کریم میں ہمارا نام مسلمان ہے اور ہمیں تاکید ہے کہ ہم مذہب کو فرقوں میں تقسیم نہ کریں۔(۴) قرآن یا احادیث میں کسی جگہ یہ مذکور نہیں کہ ہر انسان کو اپنی نجات کے لئے مسیح اور مهدی پر اعلانیہ ایمان لانا ضروری ہے۔(۵) باوجود اس کے مذکورہ بالا حالات کے ماتحت میں اس میں کوئی ہرج نہیں دیکھتا کہ خفیہ طور پر ایمان رکھوں۔یہ میرے عقائد ہیں اگر میں غلطی پر ہوں تو مہربانی کر کے قرآن اور احادیث کے حوالہ جات سے مجھے اس غلطی پر مطلع کیا جائے۔ان سوالات کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ آپ کے خیال میں حضرت مسیح موعود کے ماننے میں آپ کو بعض باتیں روک ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے سلسلہ احمدیہ میں علی الاعلان داخل ہونے سے اسلام کے بعض فرائض کو ترک کرنا پڑتا ہے۔گو ان تمام سوالات کے جواب الگ الگ بھی دوں گا لیکن پہلے میں سب سوالات پر مجموعی طور سے نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔میرے خیال میں ان سب سوالات کے جواب ہم صرف ایک سوال میں دے سکتے ہیں اور وہ یہ کہ آیا حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے یا نہیں۔اگر آپ حق پر نہ تھے تو ان سوالات کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ جھوٹے آدمی کا ماننا خواہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر ہر طرح گناہ اور معصیت ہے۔اور اگر آپ سچے تھے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ضرور بچے تھے تو پھر بھی یہ سوال حل ہو جاتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود نے اپنی بیعت کرنے یا نہ کرنے اپنے مخالفوں کے پیچھے نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے وغیر ہا سب مسائل کی بناء خدا تعالیٰ کے الہامات پر رکھی ہے اور اپنی طرف سے ان مسائل پر کچھ نہیں لکھا۔پس آپ کی صداقت ثابت ہو جانے کے بعد ایک دانا انسان کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا کہ وہ ان سب باتوں کو