انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 412

انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۱۲ منکرین اس کے بڑے خطا کار ہیں" کیا اب ان کے نزدیک میری خلافت ثابت شده صداقت نہیں رہی۔اور پھر ان کا کیا اختیار ہے کہ ایک ثابت شدہ صداقت سے مجھے معزول کر کے بڑے خطا کار سے بھی کچھ زیادہ یا اور بنیں۔کیونکہ ” بڑے خطا کار " تو انہوں نے میری خلافت کے منکروں کو خود قرار دیا ہے لیکن وہ تو مجھے خلافت سے معزول کر رہے ہیں۔میں کہتا ہوں خلیفہ اگر خدا بناتا ہے اور واقعہ میں خدا ہی بناتا ہے تو مولوی محمد احسن چھوڑ دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو اسے معزول کر سکے۔ہاں میں یہ مان لیتا ہوں کہ مولوی محمد احسن نے جو مجھے خلافت دی تھی۔اس سے میں معزول ہوتا اور اعلان کرتا ہوں کہ جس کسی نے ان کی دی ہوئی خلافت سمجھ کر میری بیعت کی تھی وہ اپنی بیعت فسخ کرنے میں آزاد ہے۔یوں تو ہر ایک اپنے عقائد کے رکھنے میں آزاد ہے لیکن میں خود ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ وہ بیعت فسخ کرلیں۔لیکن جس کسی نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی خلافت کے لئے اس کے تصرف کے ماتحت بیعت کی تھی اس کے سامنے اگر ساری دنیا بھی محمد احسن بن کر اعلان کرے تو وہ کبھی فتح نہیں کرے گا۔اور پھر جس قدر دنیا کے انسان ہیں ان کے خون کے ایک ایک قطرہ سے محمد احسن ہی محمد احسن بن جائیں اور دنیا کے چاروں طرف سے آکر مجھے خلافت سے معزول کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔میں تو محمد احسن کی دی ہوئی خلافت و پر لعنت بھیجتا ہوں۔وہ اپنی خلافت کو گھر رکھیں میں نے نہ ان سے خلافت لی ہے اور نہ وہ مجھے معزول کر سکتے ہیں۔باقی رہا یہ کہ اُس وقت کھڑے ہو کر انہوں نے تقریر کرتے ہوئے میرا نام پیش کر دیا تھا اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے مجھے خلیفہ بنایا تھا۔حضرت عمرؓ نے اپنے بعد حضرت عثمان کا نام خلیفہ بننے کے لئے پیش کیا تھا لیکن جب ان کو کہا گیا کہ آپ کو خلافت سے معزول کیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے عبا پہنائی ہے اگر ساری دنیا مل کر بھی مجھے کہے کہ اتار دو تو میں نہیں اتاروں گا۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ ایک مولوی محمد احسن کیا اگر ساری دنیا بھی مجھے کہے کہ تجھے خلافت سے معزول کیا جاتا ہے تو میں وہی جواب دوں گا جو حضرت عثمان نے دیا تھا۔یہ تو خدا تعالیٰ کی گرفت تھی کہ اس نے مولوی محمد احسن کو پکڑ کر میری تائید کرا دی اور یہ بھی میری صداقت کا ایک نشان ہے۔ہاں ان کی دی ہوئی خلافت پر نہ میں قائم تھا اور نہ معزول ہوتا ہوں۔لیکن اگر کسی نے ان کی دی ہوئی خلافت کے خیال سے میری بیعت کی تھی تو میری طرف سے آزادی ہے کہ اپنی بیعت نسخ کر دے۔میری طرف سے