انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 378

٣٧٨ سیرت مسیح موعود اس کے بعد آپ سو گئے جب صبح کا وقت ہوا۔اٹھے اور اٹھ کر نماز پڑھی۔گلا بالکل بیٹھ گیا تھا۔کچھ فرمانا چاہا لیکن بول نہ سکے۔اس پر قلم دوات طلب فرمائی لیکن لکھ بھی نہ سکے قلم ہاتھ سے چھٹ گئی۔اس کے بعد لیٹ گئے اور تھوڑی دیر تک غنودگی سی طاری ہو گئی اور قریباً ساڑھے دس بجے دن کے آپ کی روح پاک اس شہنشاہ حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی جس کے دین کی خدمت میں آپ نے اپنی ساری عمر صرف کر دی تھی۔اِنَّا لِلَّهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ - بیماری کے وقت ایک ہی لفظ آپ کی زبان مبارک پر تھا اور وہ لفظ اللہ تھا۔آپ کی وفات کی خبر بجلی کی طرح تمام لاہور میں پھیل گئی۔مختلف مقامات کی جماعتوں کو تاریں دے دی گئیں اور اسی روز شام یا دوسرے دن صبح کے اخبارات کے ذریعے کل ہندوستان کو اس عظیم الشان انسان کی وفات کی خبر مل گئی۔جہاں وہ شرافت جس کے ساتھ آپ اپنے مخالفوں سے برتاؤ کرتے تھے ہمیشہ یاد رہے گی۔وہاں وہ خوشی بھی کبھی نہیں بھلائی جا سکتی جس کا اظہار آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں نے کیا۔لاہور کی پالک کا ایک گروہ نصف گھنٹے کے اندر ہی اس مکان کے سامنے اکٹھا ہو گیا جس میں آپ کا جسم مبارک پڑا تھا۔اور خوشی کے گیت گا گا کر اپنی کو رباطنی کا ثبوت دینے لگا۔بعضوں نے تو عجیب عجیب سوانگ بنا کر اپنی خباثت کا ثبوت دیا۔آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی۔اس کا حال اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک کو صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے۔مگر وہ اس بات کی کو قبول کرنے کے لئے تو تیار تھے کہ اپنے جو اس کو مختل مان لیں لیکن یہ باور کرنا انہیں دشوار و نی ناگوار تھا کہ ان کا حبیب ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ہے۔پہلے مسیح کے حواریوں اور اس مسیح کے حواریوں کی اپنے مرشد کے ساتھ محبت میں یہ فرق ہے کہ وہ تو مسیح کے صلیب سے زندہ اتر آنے پر حیران تھے اور یہ اپنے مسیح کے وصال پر ششدر تھے۔ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح زندہ کیونکر ہے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح فوت کیونکر ہوا۔آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک شخص جو خاتم النبین ہو کر آیا تھا۔اس کی وفات پر نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ صداقت بھرا ہوا شعر کہا تھا کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلَيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ ؟ ه سيرة حسان بن ثابت مصنفه خلدون الکنانی صفحه ۲۸ مطبوعہ دمشق ۱۹۴۳ء السيرة الحلبية الجزء الثالث صفحه ۳۸۳، ۳۸۴ حاشیه مطبوعه مصر