انوارالعلوم (جلد 3) — Page 377
انوار العلوم جلد ۳ سیرت مسیح موعود ہمیں صرف اس بات سے انکار ہے کہ ہم کوئی نئی شریعت لائے ہیں۔شریعت وہی ہے جو آنحضرت ا لائے تھے۔آپ کو ہمیشہ دستوں کی شکایت رہتی تھی۔لاہور تشریف لانے پر یہ شکایت زیادہ ہو گئی۔اور چونکہ ملنے والوں کا ایک تانتا رہتا تھا اس لئے طبیعت کو آرام بھی نہ ملا۔آپ اسی حالت میں تھے کہ الہام ہوا۔اَلرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ یعنی کوچ کرنے کا وقت آگیا۔پھر کوچ کرنے کا وقت آگیا۔اس الہام پر لوگوں کو تشویش ہوئی۔لیکن فورا قادیان سے ایک مخلص دوست کی وفات کی خبر پہنچی اور لوگوں نے یہ الہام اس کے متعلق سمجھا اور تسلی ہو گئی۔لیکن آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ سلسلہ کے ایک بہت بڑے شخص کی نسبت ہے۔وہ شخص اس سے مراد نہیں۔اس الہام سے گھبرا کر والدہ صاحبہ نے ایک دن فرمایا کہ چلو واپس قادیان چلیں۔آپ نے جواب دیا کہ اب واپس جانا ہمارے اختیار میں نہیں۔اب اگر خدا ہی کی لے جائے گا تو جاسکیں گے۔مگر باوجود ان الہامات اور بیماری کے آپ اپنے کام میں لگے رہے اور اس بیماری میں ہی ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے لئے آپ نے ایک لیکچر دینے کی تجویز فرمائی اور لیکچر لکھنا شروع کر دیا اور اس کا نام پیغام صلح رکھا۔اس سے آپ کی طبیعت اور بھی کمزور ہو گئی اور دستوں کی بیماری بڑھ گئی۔جس دن یہ لیکچر ختم ہو نا تھا۔اس رات الهام ہوا۔مکن تکیه بر عمر نا پائیدار یعنی نہ رہنے والی عمر پر بھروسہ نہ کرنا۔آپ نے اسی وقت یہ الہام گھر میں سنا دیا اور فرمایا کہ ہمارے متعلق ہے۔دن کو لیکچر ختم ہوا اور چھپنے کے لئے دے دیا گیا۔رات کے وقت آپ کو دست آیا اور سخت ضعف ہو گیا۔والدہ صاحبہ کو جگایا۔وہ اٹھیں تو آپ کی حالت بہت کمزور تھی۔انہوں نے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے۔فرمایا وہی جو میں کہا کرتا تھا یعنی (بیماری موت) اس کے بعد پھر ایک اور دست آیا اس سے بہت ضعف ہو گیا۔فرمایا مولوی نورالدین صاحب کو بلواؤ (مولوی صاحب جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے بہت بڑے طبیب تھے) پھر فرمایا کہ محمود (مصنف رساله هذا) اور میر صاحب (آپ کے خسر) کو جگاؤ۔میری چارپائی آپ کی چارپائی سے تھوڑی ہی دور تھی مجھے جگایا گیا۔اٹھ کر دیکھا تو آپ کو کرب بہت تھا۔ڈاکٹر بھی آگئے تھے۔انہوں نے علاج شروع کیا لیکن آرام نہ ہوا۔آخر انجکشن کے ذریعہ بعض ادویات دی گئیں۔