انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 376

وم جلد ۳۰ سیرت مسیح موعود کرتا ہے۔اتفاق سے اسی رات میرے چھوٹے بھائی مرزا شریف احمد بیمار ہو گئے۔لیکن جس طرح سے ہو سکا روانہ ہوئے۔جب بٹالہ پہنچے جو قادیان کا سٹیشن تھا تو وہاں سے معلوم ہوا کہ بوجہ سرحدی شورش کے گاڑیاں کافی نہیں اس لئے گاڑی ریز رو نہیں ہو سکی۔وہاں دو تین دن انتظار کرنا پڑا۔آپ نے اپنے گھر میں فرمایا کہ ادھر الهام متوحش ہوا ہے۔ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روکیں پڑ رہی ہیں۔بہتر ہے کہ یہیں بٹالہ میں کچھ عرصہ کے لئے ٹھہر جائیں۔آب و ہوا تبدیل ہو جائے گی علاج کے لئے کوئی لیڈی ڈاکٹر میں بلائی جائے گی۔لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ نہیں لاہور ہی چلو۔آخر دو تین دن کے انتظار کے بعد آپ لاہور تشریف لے گئے۔آپ کے پہنچتے ہی تمام لاہور میں ایک شور پڑ گیا اور حسب دستور مولوی لوگ آپ کی مخالفت کے لئے اکٹھے ہو گئے۔جس مکان میں آپ اترے ہوئے تھے اس کے پاس ہی ایک میدان میں آپ کے خلاف لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔جو روزانہ نماز عصر سے لیکر رات کے نو دس بجے تک جاری رہتا۔ان لیکچروں میں گندی سے گندی گالیاں آپ کو دی جاتیں اور چونکہ آپ کے مکان تک پہنچنے کا یہی راستہ تھا آپ کی جماعت کو سخت تکلیف ہوتی۔لیکن آپ نے سب کو سمجھا دیا کہ گالیوں سے ہمارا کچھ نہیں بگڑتا تم لوگ خاموش ہو کے پاس سے گذر جایا کرد ادھر دیکھا بھی نہ کرو۔چونکہ اس دفعہ لاہور میں کچھ زیادہ رہنے کا ارادہ تھا اس لئے جماعت کے احباب چاروں طرف سے اکٹھے ہو گئے تھے اور ہر وقت ہجوم رہتا تھا اور لوگ بھی آپ سے ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔چونکہ رؤسائے ہند بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ساری دنیا کے رؤساء دین سے نسبتا غافل ہوتے ہیں اس لئے آپ نے ان کو کچھ سنانے کے لئے یہ تجویز فرمائی کہ لاہور کے ایک غیر احمدی رئیس کی طرف سے جو آپ کا بہت معتقد تھا رؤساء کو دعوت دی اور دعوت طعام میں کچھ تقریر فرمائی۔تقریر کسی قدر لمبی ہو گئی۔جب گھنٹے کے قریب وقت گذر گیا تو ایک شخص نے ذرا تی گھبراہٹ کا اظہار کیا۔اس پر بہت سے لوگ بول اٹھے کہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں لیکن یہ کھانا (غذائے روح) تو آج ہی میسر ہوا ہے آپ تقریر جاری رکھیں۔دو اڑھائی گھنٹے تک آپ کی تقریر ہوتی رہی۔اس تقریر کی نسبت لوگوں میں مشہور ہوا کہ آپ نے اپنا دعویٰ نبوت واپس لے لیا۔لاہور کے اردو روزانہ اخبار عام نے بھی یہ خبر شائع کر دی۔اس پر آپ نے اسی وقت اس کی تردید فرمائی اور لکھا کہ ہمیں دعویٰ نبوت ہے اور ہم نے اسے کبھی واپس نہیں لیا۔