انوارالعلوم (جلد 3) — Page 351
رالعلوم جلد ۳۵۱ سیرت مسیح موعود۔اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کے چیلنج دینے شروع کئے۔اور مولوی نذیر حسین صاحب جو تمام ہندوستان کے علماء اہلحدیث کے استاد تھے ان سے مباحثہ قرار پایا۔مسجد جامع مقام مباحثه قرار پائی۔لیکن مباحثہ کی یہ سب قرار داد مخالفین نے خود ہی کر لی۔کوئی اطلاع آپ کو نہ دی گئی۔عین وقت پر حکیم عبدالمجید خاں صاحب دہلوی اپنی گاڑی لے کر آگئے اور کہا کہ مسجد میں مباحثہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ فساد کے موقعہ پر ہم نہیں جاسکتے جب تک پہلے سرکاری انتظام نہ ہو پھر مباحثہ کے لئے ہم سے مشورہ ہونا چاہئے تھا۔اور شرائط مباحثہ طے کرنی تھیں۔آپ کے نہ جانے پر اور شور ہوا۔آخر آپ نے اعلان کیا کہ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی جامع مسجد میں قسم کھالیں کہ حضرت مسیح قرآن کریم کے رو سے زندہ ہیں اور اب تک فوت نہیں ہوئے اور اس قسم کے بعد ایک سال تک کسی آسمانی عذاب میں مبتلا نہ ہوں تو میں جھوٹا ہوں اور میں اپنی کتب کو جلا دوں گا اور اس کے لئے تاریخ بھی مقرر کر دی۔مولوی نذیر حسین صاحب کے شاگرد اس سے سخت گھبرائے اور بہت روکیں ڈالنی شروع کر دیں۔لیکن لوگ مصر ہوئے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ سن کر قسم کھا جائیں۔کہ یہ جھوٹا ہے اور لوگ اس وقت کثرت سے جامع مسجد میں اکٹھے ہو گئے۔حضرت صاحب کو لوگوں نے بہت روکا کہ آپ نہ جائیں سخت بلوہ ہو جائے گا۔لیکن آپ وہاں گئے اور ساتھ آپ کے بارہ دوست تھے۔حضرت مسیح کے بھی بارہ ہی حواری تھے۔اس معرکۃ الآراء موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ تعداد بھی ایک نشان تھی) جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر اور باہر آدمیوں سے پر تھی۔بلکہ سیڑھیوں پر بھی لوگ کھڑے تھے۔ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں سے گذر کر جبکہ سب لوگ دیوانه دار خون آلود نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے۔آپ اس مختصر جماعت کے ساتھ محراب مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔مجمع کے انتظام کے لئے سپر نٹنڈنٹ پولیس مع دیگر افسران اور قریباً سو کانسٹبلوں کے آئے ہوئے تھے۔لوگوں میں سے بہتوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور ادنیٰ سے اشارے پر پتھراؤ کرنے کو تیار تھے۔اور مسیح ثانی بھی پہلے مسیح کی طرح فقیہوں اور فریسیوں کا شکار ہو رہا تھا۔لوگ اس دوسرے مسیح کو سولی پر لٹکانے کی بجائے پتھروں سے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔اور گفتگوئے مباحثہ میں تو انہیں ناکامی ہوئی۔مسیح کی وفات پر بحث کرنا لوگوں نے قبول نہ کیا۔قسم بھی نہ کسی نے کھائی نہ مولوی نذیر حسین صاحب کو کھانے دی۔خواجہ محمد یوسف صاحب پلیڈر علی گڑھ نے حضرت صاحب سے آپ کے عقائد۔