انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 350

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۵۰ سیرت مسیح موعود ہے جو ان کی خوبو پر آوے اور وہ آپ ہی ہیں۔جب اس بات پر آپ کو شرح صدر ہو گیا اور بار بار الہام سے آپ کو مجبور کیا گیا۔کہ آپ اس بات کا اعلان کریں تو آپ کو مجبوراً اس کام کے لئے اٹھنا پڑا۔قادیان میں ہی آپ کو یہ الہام ہوا تھا آپ نے گھر میں فرمایا کہ اب ایک ایسی بات میرے سپرد کی گئی ہے کہ اب اس سے سخت مخالفت ہو گی اس کے بعد آپ لدھیانہ چلے گئے اور مسیح موعود ہونے کا اعلان ۱۸۹۱ء میں بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا۔اس اعلان کا شائع ہونا تھا علمائے زمانہ کی شدید مخالفت اور مباحثہ دہلی کی کیفیت کہ ہندوستان بھر میں شور پڑ گیا۔اور اس قدر مخالفت ہوئی۔کہ الامان ! وہی علماء جو آپ کی تائید کرتے تھے آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔مولوی محمد حسین بٹالوی جنہوں نے اپنے رسالہ اشاعتہ السنہ میں آپ کی تائید میں زبر دست آرٹیکل لکھے تھے۔انہوں نے ہی آپ کے خلاف زمین و آسمان سر پر اٹھا لیا۔اور لکھا کہ میں نے ہی اس شخص کو چڑھایا تھا اور اب میں ہی اسے گراؤں گا یعنی میری ہی تائید سے ان کی عظمت قائم ہوئی تھی۔اب میں اتنی مخالفت کروں گا کہ یہ لوگوں کی نظروں سے گر جائیں گے اور بدنام ہو جائیں گے۔مولوی صاحب مع بعض دیگر علماء کے لدھیانہ بھی پہنچے اور مباحثہ کا چیلنج دیا جو حضرت مسیح موعود نے منظور بھی فرمالیا۔لیکن مباحثہ میں فریق مخالف نے اس قسم کی کج بحثیں شروع کیں۔کہ کچھ فیصلہ نہ ہو سکا اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے دیکھا کہ ایک فتنہ عظیم برپا ہے اور قریب ہے کہ کوئی صورت غدر کی پیدا ہو جائے۔تو انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ایک خاص حکم کے ذریعے لدھیانہ سے اسی دن چلے جانے پر مجبور کیا۔اس پر بعض دوستوں کے مشورہ سے کہ شاید ایسا حکم آپ کے متعلق بھی جاری ہو۔آپ لدھیانہ سے امرت سر تشریف لے آئے اور آٹھ دن وہاں رہے۔لیکن بعد میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب نے دریافت کرنے پر بتایا کہ آپ کے متعلق کوئی حکم نہ تھا۔جس پر آپ پھر لدھیانہ تشریف لے گئے اور پھر وہاں ہفتہ بھر کے قریب رہے۔اور پھر قادیان تشریف لے آئے اس کے بعد کچھ مدت قادیان رہ کر پھر لدھیانہ تشریف لے گئے۔جہاں کچھ مدت رہے اور وہاں سے دہلی تشریف لے گئے جہاں آپ ۲۸ / ستمبر ۱۸۹۱ء کی صبح کو پہنچے۔چونکہ دہلی اس زمانہ مین تمام ہندوستان کا علمی مرکز سمجھا جاتا تھا وہاں کے لوگوں میں پہلے سے ہی آپ کے خلاف جوش پھیلایا جاتا تھا۔آپ کے وہاں پہنچتے ہی وہاں کے علماء میں ایک جوش پیدا ہوا۔