انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 348

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۴۸ سیرت مسیح موعود گئے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اس وقت تمام اہل حدیث وہابی فرقہ کے سرگروہ تھے اور وہابی فرقہ میں ان کو خاص عزت حاصل تھی اور اسی وجہ سے گورنمنٹ کے ہاں بھی ان کی عزت تھی۔ انہوں نے اس کتاب کی تعریف میں ایک لمبا آرٹیکل لکھا اور بڑے زور سے اس کی تائید کی۔ اور لکھا کہ تیرہ سو سال میں اسلام کی تائید میں ایسی کتاب کوئی نہیں لکھی گئی۔ اس کثرت الہام اور غیب کی خبریں اور آپ کے بھائی صاحب کی وفات کتاب میں حضرت مسیح موعود نے اپنے بعض الهامات بھی لکھے ہیں۔ جن میں سے بعض کا بیان کر دینا یہاں مناسب ہو گا کیونکہ بعد کے واقعات سے ان کے غلط یا درست ہونے کا پتہ لگتا ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ" (تذكره صفحه ٥٠ ایڈیشن چهارم) " بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ " ( تذکرہ صفحہ ۱۰ ایڈیشن چهارم) یہ وہ الہامات ہیں جو براہین احمدیہ ۱۸۸۴ء میں شائع کئے گئے تھے۔ جب کہ آپ دنیا میں ایک کسمپرس آدمی کی حالت میں تھے۔ لیکن اس کتاب کا نکلنا تھا کہ آپ کی شہرت ہندوستان میں دور دور تک پھیل گئی۔ اور بہت لوگوں کی نظریں مصنف براہین احمدیہ کی طرف لگ گئیں کہ یہ اسلام کا پشتی بان ہو گا اور اسے دشمنوں کے حملوں سے بچائے گا۔ اور یہ خیال ان کا درست تھا لیکن خدا تعالیٰ اسے اور رنگ میں پورا کرنے والا تھا۔ اور واقعات یہ ثابت کرنے والے تھے کہ جو لوگ ان دنوں اس پر جان فدا کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے وہی اس کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔ اور ہر طرح اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اور آپ کی قبولیت کسی انسانی امداد کے سہارے نہیں بلکہ خدا تعالی کے زبردست حملوں کے ذریعہ مقدر تھی۔ ۱۸۸۴ء میں آپ کے بھائی صاحب بھی فوت ہو گئے اور چونکہ وہ لاولد تھے اس لئے ان کے وارث بھی آپ ہی تھے ۔ لیکن اس وقت بھی آپ نے ان کی بیوہ کی دلدہی کے لئے جائداد پر قبضہ نہ کیا۔ اور ان کی درخواست پر نصف حصہ تو مرزا سلطان احمد صاحب کے نام پر لکھ دیا ۔ جنہیں آپ کی بھاوج نے رسمی طور پر متبنی قرار دیا تھا۔ آپ نے تبنیت کے سوال پر تو صاف لکھ دیا کہ اسلام میں جائز نہیں۔ لیکن مرزا غلام قادر مرحوم کی بیوہ کی دلد ہی اور خبر گیری کے ه تذکره ها