انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 339

دم جلد ۳۳۰ ۳۳۹ سیرت مسیح موعود کاموں میں بالکل نہیں لگتی اپنے والد صاحب کے مشورہ سے آپ سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے اور وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔مگر اکثر وقت علمی مشاغل میں ہی گذر تا اور ملازمت سے فراغت کے اوقات میں یا تو آپ خود مطالعہ کرتے یا دوسرے لوگوں کو پڑھاتے تھے یا مذہبی مباحث میں حصہ لیتے تھے۔اور اس وقت بھی آپ کی پر ہیز گاری اور تقویٰ کا اتنا اثر تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ بالکل نوجوان تھے۔اور صرف اٹھائیس سال کی عمر تھی۔مگر بوڑھے بوڑھے آدمی مسلمانوں میں سے بھی اور ہندوؤں میں سے بھی آپ کی عزت کرتے تھے لیکن آپ کی عادت اس وقت بھی خلوت پسندی کی تھی اپنے مکان سے باہر کم جاتے اور اکثر وقت وہیں گزارتے۔مسیحی مشن ان دنوں پنجاب میں نیا نیا آیا تھا۔اور مسلمان ان کے حملوں سے ناواقف تھے اور اکثر مسیحیوں سے شکست کھاتے۔لیکن حضرت مرزا صاحب سے جب کبھی بھی مسیحیوں کی گفتگو ہوئی۔ان کو نیچا دیکھنا پڑا۔چنانچہ پادریوں میں سے جو لوگ حق پسند تھے وہ باوجود اختلاف مذہبی کے آپ کی بہت عزت کرتے۔چنانچہ آپ کا سوانح نگار لکھتا ہے۔ریورنڈ بٹلر ایم۔اے جو سیالکوٹ کے مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچھری میں آپ کے پاس ملنے کے لئے چلے آئے۔اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا کہ کس طرح تشریف لائے ہیں تو ریورنڈنڈ کورنے کہا کہ صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے۔اور جہاں آپ بیٹھے تھے وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب کہ گورنمنٹ برطانیہ کی نئی نئی فتح کو پادری لوگ اپنی فتح کی علامت قرار دیتے تھے۔اور ان میں تکبر اس قدر سرایت کر گیا تھا کہ ان دنوں میں جو کتب اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں ان کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پادری صاحبان نے اس وقت شائد یہ خیال کر رکھا تھا کہ چند ہی روز میں تمام مسلمانوں کو پکڑ کر بزور شمشیر گورنمنٹ مسیحی بنالے گی۔اور وہ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف سخت سے سخت الفاظ استعمال کرنے سے بھی نہ رکھتے تھے۔حتی کہ بعض دانا یورپین صاحبان کو بھی ان تصانیف کو دیکھ کر لکھنا پڑا کہ ان تحریروں کی وجہ سے اگر دوبارہ شہداء کی طرح غدر ہو جائے تو کوئی تعجب نہیں۔اور یہ حالت اس وقت تک قائم رہی۔جب تک کہ مسیحی پادریوں کو یہ یقین نہ ہو گیا کہ ہندوستان میں حکومت انگلستان کی ہے نہ کہ پادریوں کی۔اور یہ کہ کوئین وکٹوریہ کی گورنمنٹ بزور شمشیر دین مسیحی پھیلانے کی ہرگز