انوارالعلوم (جلد 3) — Page 340
۳۴۰ روادار نہیں اور وہ کبھی پسند نہیں کرتی کہ کسی مذہب کی ناجائز طور پر دل آزادی کی جائے۔غرض اس وقت مسیحیوں اور مسلمانوں سے تعلقات نہایت کشیدہ تھے۔اور پادریوں کے اخلاق ان دنوں میں صرف انہیں لوگوں تک محدود ہوتے تھے جو ان کی باتوں کی تصدیق کریں۔مگر جو آگے سے جواب دے بیٹھیں ان کے خلاف ان کا جوش بڑھ جاتا تھا۔لیکن باوجود اس کے کہ حضرت مرزا صاحب دین میں غیور تھے اور مذہبی مباحثات میں کسی سے نہ دیتے تھے ریورنڈ بٹلر آپ کی نیک نیتی اور اخلاص اور تقویٰ کو دیکھ کر متاثر تھے۔اور باوجود اس بات کو محسوس کرنے کے کہ یہ شخص میرا شکار نہیں ہاں ممکن ہے کہ میں اس کا شکار ہو جاؤں۔اور باوجود اس طبعی نفرت کے جو ایک صید کو صیاد سے ہوتی ہے وہ دوسرے مذہبی مناظرین کی نسبت مرزا صاحب سے مختلف سلوک کرنے پر مجبور ہوئے۔اور جاتے وقت کچھری میں ہی آپ سے ملنے کے لئے آگئے اور آپ سے ملے بغیر جانا پسند نہ کیا۔قریباً چار سال آپ سیالکوٹ میں ملازم رہے علیحدگی ملازمت اور پیروی مقدمات لیکن نہایت کراہت کے ساتھ۔آخر والد صاحب کے لکھنے پر فوراً استعفاء دے کر واپس آگئے اور اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت ان کے زمینداری مقدمات کی پیروی میں لگ گئے لیکن آپ کا دل اس کام پر نہ لگتا تھا۔چونکہ آپ اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار تھے اس لئے والد صاحب کا حکم تو نہ ٹالتے تھے۔لیکن اس کام میں آپ کا دل ہر گز نہ لگتا تھا۔چنانچہ ان دنوں کے آپ کو دیکھنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات کسی مقدمہ میں ہار کر آتے تو آپ کے چہرہ پر بشاشت کے آثار ہوتے تھے اور لوگ سمجھتے کہ شائد فتح ہو گئی ہے۔پوچھنے پر معلوم ہو تا کہ ہار گئے ہیں۔جب وجہ دریافت کی جاتی تو فرماتے کہ ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا منشائے الہی یہی تھا اور اس مقدمہ کے ختم ہونے سے فراغت تو ہو گئی ہے یاد الہی میں مصروف رہنے کا موقعہ ملے گا۔یہ زمانہ آپ کا کشمکش کا زمانہ تھا۔والد صاحب چاہتے تھے کہ آپ یا تو زمینداری کے کام میں مصروف ہوں یا کوئی ملازمت اختیار کریں اور آپ ان دونوں باتوں سے متنفر تھے۔اور اس لئے اکثر تشنیع کا شکار رہتے تھے جب تک آپ کی والدہ صاحبہ زندہ رہیں آپ پر ایک ہسپئر کے طور پر رہیں۔لیکن ان کی وفات کے بعد آپ اپنے والد صاحب اور بھائی صاحب کی ملامت کا اکثر نشانہ ہو جاتے۔اور بعض دفعہ لوگ سمجھتے تھے کہ آپ کا دنیاوی کاموں سے متنفر ہونا ستی کی طعن و