انوارالعلوم (جلد 3) — Page 314
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۱۴ نجات کی حقیقت کے معاوضہ میں دیتی ہے جو وہ لڑائی میں کر سکتے ہیں۔ مگر پھر بھی جو لڑائی میں خاص جرأت اور ولیری دکھاتا ہے۔ اس کو کئی قسم کے انعام دیئے جاتے ہیں۔ حالانکہ جب ملازم رکھا جاتا ہے۔ تو اس وقت یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کے لئے جان دینی پڑی تو بھی دریغ نہ کروں گا۔ آپ جانتے ہیں پھر گورنمنٹ کیوں انعام دیتی ہے۔ اس لئے کہ وہ کسی کی خدمت سے خوش ہو جاتی ہے پس گورنمنٹ کا انعام سپاہی کی خدمت کا معاوضہ نہیں ہو تا لیکن ہو تا خدمت ہی کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کا نجات دینا ہے۔ انسان اعمال کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان میں کمزوریاں ہیں۔ لیکن جب وہ اپنی طرف سے پورے زور اور کوشش سے اعمال کرتا ہے۔ تو اس کے اعمال خدا تعالی کے رحم اور فضل کو کھینچ لیتے ہیں۔ اور وہ نجات پا جاتا ہے۔ دنیا کے کاروبار میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص خاص ہمت اور کوشش سے کام کرتا ہے تو اپنے کام کرانے والے انسان کے رحم کو حاصل کر لیتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرے اور اس کے رحم کو نہ پاسکے۔ پس ہمارے نزدیک اعمال ضروری ہیں۔ کیونکہ ان نجات کے لئے اعمال ضروری ہیں کے ذریعہ فضل حاصل ہوتا ہے۔ اور خدا کے فضل سے نجات ہوتی ہے۔ اور جب تک اعمال نہ ہوں نجات ہو نہیں سکتی۔ دیکھو ایک انسان کسی پر کیوں رحم کرتا ہے۔ اس لئے کہ اس کو دکھ اور مصیبت میں دیکھتا ہے یعنی اس شخص کا دکھ اس کے رحم کو کھینچتا ہے تو ہر بات کے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا پہلا ذریعہ اعمال ہیں اسی لئے اسلام نے اعمال پر بہت زور دیا ہے۔ لیکن نجات خدا کے فضل پر ہی رکھی ہے۔ آنحضرت ا سے پوچھا گیا۔ کہ نجات کے لئے اعمال پر بھروسہ ٹھیک نہیں! آپ کی نجات تو تو اعمال کی وجہ سے ہوگی۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں میری نجات بھی خدا کے فضل سے ہوگی۔ آنحضرت ا سے بڑھ کر اور کوئی شخص درجہ نہیں رکھتا۔ جب آپ فرماتے ہیں کہ میری نجات خدا کے فضل سے ہوگی۔ تو اور کون ہے جو اپنے اعمال پر بھروسہ رکھ سکے۔ ہاں فضل کے لئے اعمال کا ہونا ضروری ہے۔ اور اس تھیوری کو اسلام پیش کرتا ہے۔ اس سے آپ عیسائیت کی تھیوری کا مقابلہ کرکے دیکھ لیں کہ کون غلط اور کون درست ہے۔ مه مسلم شرح النووی - صفات المنافقين و احكامهم - باب لن يدخل احد الجنة بعمله بل برحمته الله