انوارالعلوم (جلد 3) — Page 6
انوار العلوم جلد ۳۰ سکتا ہے چنانچہ ایک غیر مبائع صاحب نے پیسہ اخبار میں ایک خط لکھا ہے اور اس میں قبول کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود بھی نفسانیت سے پاک نہ تھے بلکہ آپ میں بھی ایک حد تک شخصیت پائی جاتی تھی۔پس اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے تو ان لوگوں کے خیالات کو اصل اور درست قرار دینا ہو گا کیونکہ تفریط تو کوئی جماعت کرہی نہیں سکتی۔لیکن یہ بات بالکل غلطان ہے۔بعض لوگ افراط کرتے ہیں اور بعض تفریط۔لیکن ہمیشہ مامور کی صحبت پانے والا حصہ زیادہ تر حق پر رہتا ہے نہ کہ افراط و تفریط میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جو لوگ حق کو چھوڑتے ہیں خواہ افراط کریں یا تفریط وہ مامور کی فیض صحبت یافتہ جماعت کا ایک قلیل گروہ ہو سکتے ہیں نہ کثیر درنہ مامور پر نا کام جانے کا الزام آتا ہے۔اس بات کے ظاہر کرنے کے بعد کہ مولوی صاحب کا اس امر سے حجت پکڑنا کہ ہمیشہ کسی مصلح کی جماعت اس کے درجہ میں افراط سے کام لیتی ہے نہ کہ تفریط سے اس لئے ہم حق پر ہیں غلط ہے۔میں بتانا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب کی وہ کونسی غلط فہمیاں ہیں جن کے ازالہ کے لئے انہیں قلم اٹھانی پڑی ہے ؟ سو یا د رہے کہ میں نے اپنے رسالہ "القول الفصل" میں لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود کو جزوی نبی ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ آپ کو پہلے اپنے آپ کو جزوی نبی خیال کرتے تھے لیکن بعد میں آپ نے اس عقیدہ کو ترک کر دیا۔مولوی صاحب نے میرے منشاء کو سمجھنے کے بغیر اپنے رسالہ میں لکھ دیا کہ میاں صاحب کے خیال میں پہلے تو مرزا صاحب جزوی نبی تھے مگر بعد کے الہامات میں آپ کو نبی قرار دیا گیا۔اور وہ میرا یہ عقیدہ خیال کر کے مجھ سے اس الہام کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نبی تھے لیکن اب نبی بنائے جاتے ہیں۔(گو وہ خود اس الہام کے پیش کرنے سے قاصر ہیں جس میں حضرت مسیح موعود کو جزوی نبی کہا گیا ہو) اسی طرح وہ حضرت مسیح موعود کی کتب سے چند عبارات نقل کر کے ثابت کرتے ہیں کہ دیکھو حضرت مسیح موعود ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ آپ کی نبوت سے صرف مکالمہ و مخاطبہ اور امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا مراد ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود ہمیشہ اپنی نبوت کی ایک ہی تشریح کرتے رہے ہیں۔لیکن ہر ایک ایسا انسان جس نے اللہ تعالیٰ کے عنایت کردہ قسم کو ضائع نہ کر دیا ہو سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں باتوں سے مولوی صاحب کا مطلب حاصل نہیں ہوتا اور ان سے میری بات کی تردید نہیں ہوتی۔کیونکہ نہ تو میں نے کہیں یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلے خدا تعالیٰ جزوی