انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 5

ال چند غلط نو لیکن آپ کے اس خیال کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے کہ کسی مصلح کی جماعت اسے اپنے درجہ سے گھٹاتی نہیں اور تاریخ سے ثابت ہے کہ تمام مصلحین کی جماعتوں نے ان کے درجہ کے متعلق غلو سے کام لیا ہے نہ تفریط سے کیونکہ ہمارے سامنے خود ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو اپنے پیشواؤں کے درجہ کو بڑھانے کی بجائے گھٹانے کے عادی ہیں۔چکڑالوی رسول اللہ کے فیصلہ کو حجت نہیں قرار دیتے اور جہاں رسولوں کی اطاعت کا حکم آتا ہے اس سے مراد قرآن کریم کو لیتے ہیں اسی طرح خوارج کا گروہ تھا کہ وہ بھی رسول اللہ ا کو وحی کے علاوہ عام مسلمانوں کا سا درجہ دیتا تھا اور ان KNN الا الله۔۔(یوسف : ۶۸۷۴۱) کے مفہوم اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلَّهِ کو غلط سمجھ کر حق سے دور ہو رہا تھا پھر احادیث سے ثابت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت کے منہ پر کہہ دیا کہ آپ عدل سے کام لیں۔پس یہ بات غلط ہے کہ تفریط سے کسی جماعت نے کام نہیں لیا بلکہ اگر افراط سے کام لیا گیا ہے تو تفریط سے بھی کام لیا گیا ہے۔پھر ہم اس بات کے اقرار کرنے سے بھی نہیں رک سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کی جماعتوں میں سے ایک جماعت بھی ایسی نہیں ملتی جس کے اکثر افراد اس کی وفات کے ساتھ ہی بگڑ گئے ہوں بلکہ وہ لوگ جو اس کے صحبت یافتہ ہوتے ہیں ان کا بڑا حصہ ہمیشہ حق پر قائم رہتا ہے اور ہم ھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے صحبت یافتوں کا ایک بڑا حصہ ہمارا ہم خیال ہے پھر یہ بھی بات ہے کہ اگر جناب مولوی صاحب کے مقرر کردہ اصل کو قبول کر لیا جائے تو ہمیں پہلے جماعت احمدیہ کے تمام لوگوں کے عقائد معلوم کرنے ہوں گے۔اور پھر ان میں سے جس شخص کے عقائد میں حضرت مسیح موعود کا درجہ سب احمدیوں کے عقائد کی نسبت کم ہو اسے قبول کرنا ہو گا کیونکہ اگر اس کے سوا کسی اور عقیدہ کو قبول کیا جائے گا تو مانا پڑے گا کہ ماموروں کی جماعت میں سے بعض درجہ کو بڑھانے کی بجائے کم بھی کر دیتے ہیں اور یہ بات جناب مولوی صاحب کی تحقیق کے بالکل خلاف ہے پس جو احمدی حضرت مسیح موعود کے درجہ کو باقی سب احمدیوں کی نسبت گھٹا کر بیان کرتا ہے اس کا خیال صحیح تسلیم کرنا پڑے گا اور میں ایسے آدمی پیش کر سکتا ہوں جن کے خیال میں حضرت مسیح موعود کی وہ باتیں جو آپ وحی سے نہ کہیں ماننے کے قابل نہیں اور ایسے آدمی بھی پیش کر سکتا ہوں جو کہتے ہیں کہ مسیح موعود نے چونکہ ہم کو نہ مانا اس لئے بطور سزا ان کی عمر کم کر دی گئی اور ایسے بھی جو کہتے ہیں کہ آپ بلحاظ ماموریت کے جو کچھ فرماتے ہیں درست ہے لیکن مامور بھی بشر ہوتا ہے اور بلحاظ بشریت گناہ میں مبتلا ہو