انوارالعلوم (جلد 3) — Page 296
لوم جلد ۳۰ ۲۹۶ نصائح مبلغین ہاں مذاق نبی کریم ﷺ بھی کر لیا کرتے تھے اس میں حرج نہیں۔احتیاط ہونی چاہئے۔سنجیدہ معلوم ہو۔(۳) اور ہمدردی ہونی چاہئے۔نرم الفاظ ہوں سنجیدگی سے ہوں سمجھنے والا سمجھے میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔تمہاری ہمدردی وسیع ہونی چاہئے احمدیوں سے بھی ہو غیر احمدیوں سے بھی ہو۔ہمدردی دونوں فریق کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے ہی جھگڑے ہوا کرتے ہیں۔ایک فریق کہتا ہے ہم اپنے مولوی کو بلاتے ہیں دوسرے کہتے ہیں ہم اپنے مولوی کو بلاتے ہیں۔لیکن اگر تمہاری ہمدردی دونوں فریق کے ساتھ ہو تو دونوں فریق کے تم ہی مولوی ہو گے۔اور پھر انہیں کسی اور مولوی کے بلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ تمہیں اپنا مولوی سمجھیں گے۔پھر تبلیغ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں ہونی چاہئے۔(۴) آج تک ہمارے مبلغوں کا زور غیر احمدیوں پر ہی رہا ہے۔کثرت سے ہندو آباد ہیں ان میں بھی تبلیغ ہونی چاہئے۔بہت سی سعید رو میں ان میں بھی ہوتی ہیں۔تمہاری ہمدردی ان کی کے ساتھ بھی ویسی ہی ہونی چاہئے جیسے مسلمانوں اور احمدیوں کے ساتھ تاکہ تم ان کے بھی پنڈت ہو جاؤ۔اسلام کی تبلیغ ہندوستان میں اسی طرح پھیلی ہے حضرت معین الدین چشتی کوئی اتنے بڑے عالم نہ تھے بلکہ انہوں نے اپنے اعمال کے ساتھ دعاؤں کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ ہندوؤں کو مسلمان بنایا۔اس لئے تم اپنی تبلیغ غیر احمدیوں سے ہی مخصوص نہ کرو بلکہ ہندوؤں عیسائیوں میں بھی تمہاری تبلیغ ہو اور ان سے بھی تمہارا ویسا ہی سلوک ہو۔مجھے ہندو یہاں دعا کے لئے لکھتے ہیں نذریں بھیجتے ہیں ان میں بھی سعید رو میں موجود ہیں۔اگر ان کو صداقت کی طرف بلایا جائے اور صداقت کی راہ دکھائی جائے تو وہ صداقت کو قبول کرلیں۔مبلغ کا فرض ہے کہ ایسا طریق اختیار نہ کرے کہ کوئی قوم اسے اپنا دشمن سمجھے۔اگر یہ کسی ہندوؤں کے شہر میں جاتا ہے تو یہ نہ ہو کہ وہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی دشمن آیا ہے بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمارا پنڈت ہے۔اگر عیسائیوں کے ہاں جائے تو سمجھیں کہ یہ ہمارا پادری ہے وہ اس کے جانے پر ناراض نہ ہوں بلکہ خوش ہوں۔اگر یہ اپنے اندر ایسا رنگ پیدا کرے تو پھر غیر احمدی کبھی تمہارے کسی شہر میں جانے پر کسی مولوی کو نہ بلائیں گے۔نہ ہندو کسی پنڈت کو اور نہ عیسائی کسی پادری کو۔بلکہ وہ تمہارے ساتھ محبت سے پیش آئیں گے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بڑے بڑے لوگوں کو جو کسی مذہب میں گزر چکے ہوں گالیاں دینے سے روکا ہے۔