انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 297

۲۹۷ نصائح مبلغین اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ تمام دنیا کے لئے نبی آئے اور انہوں نے اپنی امتوں میں ایک استعداد پیدا کر دی پھر بتایا کہ اسلام تمام دنیا کے لئے تبلیغ کرنے والا ہے۔تبلیغ میں یہ یاد رکھو کہ کبھی کسی شخص کے قول سے گھبراؤ نہیں اور نہ قول پر دارومدار رکھو۔دلیل اور قول میں فرق ہے دلیل پر زور دینا چاہئے۔لوگ دلیل کو نہیں سمجھتے مسلمان آریوں سے بات کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں قرآن میں یوں آیا ہے آریوں کے لئے قرآن حجت نہیں۔تم رویہ دلیل کو پیش کرنے کا اختیار کرو تا جماعت احمدیہ میں یہ رنگ آجائے۔دلائل سے فیصلہ کرو عقلی دلائل بھی ہوں اور نقلی بھی۔دلیل ایسی نہ ہو کہ حضرت مولوی نور الدین اتنے بڑے عالم تھے وہ بھلا مرزا صاحب کو ماننے میں غلطی کر سکتے تھے۔پس چونکہ انہوں نے مرزا صاحب کو مان لیا اس لئے حضرت صاحب بچے ہیں۔ایسی دلیل نہیں ہونی چاہئے بلکہ دلیل سے بات کرو تاکہ جماعت میں دلا کل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو۔اگر جماعت میں دلائل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو جائے گا تو پھر وہ کسی شخص کے جماعت سے نکلنے پر گھبرا ئیں گے نہیں۔کچی اتباع پیدا کرو۔جھوٹی اتباع نہ ہو آریوں کے سامنے قرآن شریف دلیل کے طور پر پیش کرو۔۔اس طرح پیش نہ کرو کہ تم مانتے ہو۔ایک اور دھوکا بھی لگتا ہے کہ بعض پھر دعوئی کے لئے بھی دلیل مانگتے ہیں۔دعوئی پڑھو تو کہتے ہیں دلیل دو۔جہاں دعوئی کا اثبات ہو وہاں دعوی خود دلیل ہوتا ہے۔مثلاً حضرت صاحب کی نسبت کوئی پوچھے کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو ہم دعوی پڑھ دیں گے۔اور اس کی دلیل دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے دعوئی مانگا ہے۔لاہوریوں اور ہمارے در میان حضرت صاحب کا دعوی ہی دلیل ہے۔جب بحث کرد تو مد مقابل کی بات کو سمجھو کہ وہ کیا کہتا ہے۔مثلاً متناسخ کی بات شروع ہوئی ہو۔تو فورا تاریخ کے رد میں دلائل دینے نہ شروع کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے لیکر چھوٹے سے چھوٹے مسئلے میں بھی اختلاف آتا ہے۔اب اگر تم اس کے برخلاف دلیلیں دینے لگ پڑو اور آخر میں وہ کہدے کہ آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں تو تقریر بے فائدہ جائے گی۔اس کی بات سمجھو کہ آیا وہ وہی تو نہیں کہتا جو تمہارا بھی عقیدہ ہے۔بغیر خیالات معلوم کئے بات نہ کرو۔تاریخ کے متعلق بات کرو تو پوچھو کہ تمہارا تناسخ سے کیا مطلب ہے۔اس کی ضرورت کیا پیش آئی۔غرض ایسے سوالات کر کے پہلے اس کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو اور پھر