انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 291

العلوم جلد ۳۰ ۲۹۱ نصائح مبلغین کرے اس کے لئے یہ بہت مفید وقت ہے۔سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کے بعد پھر سورج ڈوبنے کے قریب۔پھر نماز عشاء کے بعد اور ۹ بجے دن سے لیکر دس بجے دن تک کسی وقت کر لینا چاہئے۔یہ تو اپنے نفس کی اصلاح ہے۔تبلیغ کے کام میں مطالعہ بہت وسیع ہونا چاہئے۔بعض دفعہ اجڈ گنوار آدمی آکر کچھ سناتے ہیں۔اور وہ بہت لطیف بات ہوتی ہے۔سلسلے کی کتابوں کا مطالعہ رہے۔حضرت صاحب کی کتابیں اور پھر دوسرے آدمیوں کی کتابیں اتنی اتنی دفعہ پڑھو کہ فورا حوالہ ذہن میں آجائے۔ایک مرض مولویوں میں ہے۔یاد رکھو مولوی کبھی کتاب نہیں کتابیں اپنی خریدو خریدتے اس کو لغو یا اسراف سمجھتے ہیں۔شاذ و نادر زیادہ سے زیادہ مشکوۃ رکھ لی اور ایک کا فیہ رکھ لیا۔لیکن انسان کے لئے جہاں وہ اور بہت سے چندے دیتا کتاب خرید نا نفس کے لئے چندہ ہے۔کچھ نہ کچھ ضرور کتاب کے لئے بھی نکالنا چاہئے خواہ سال میں آٹھ آنہ کی ہی کتاب خریدی جائے۔یہ کوئی ضروری نہیں کہ لاکھوں کی ہی کتابیں خریدی جائیں بلکہ جس قدر خرید سکو خرید و۔یہ اس لئے کہ خریدنے والا پھر اسی کتاب کا آزادی سے مطالعہ کر سکے گا اور اس طرح اس کے علم میں اضافہ ہو گا فراست بڑھے گی۔بعض جگہ ہمارے مولوی جاتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی کتابیں لیتے ہیں لیکن جب وہاں سے چلنے لگتے ہیں تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری کتابیں لاؤ پھر دینی پڑتی ہیں۔تو دوسری بات اپنی کتابیں خریدنے سے یہ ہوتی ہے کہ آزادی پیدا ہوتی ہے احتیاج نہیں ہوتی۔ہے۔پھر نفس کے لئے لجاجت خوشاید سوال کی عادت نہیں سوال و خوشامد کی عادت نہ ڈالو ہونی چاہئے۔یہ بھی علماء میں بڑا بھاری نقص ہے کہ وعظ کیا اور بعد میں کچھ مانگ لیا۔اور اگر کوئی ایسا گرا ہوا نہ ہوا تو اس نے دوسرے پیرایہ میں اپنی ضرورت جہادی۔مثلاً ہمارا کنبہ زیادہ ہے گزارہ نہیں ہو تا یا کسی دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا کہ کچھ روپے کی یا کوٹ وغیرہ کی ضرورت ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ پر تو کل چاہئے اس سے مانگنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا تھا کہ تیرے پاس ایسا مال لایا جائے گا کہ مال لانے والوں کو الہام ہو گا کہ مسیح موعود کے پاس لے کر جاؤ۔پھر وہ مال آتا ہے۔کوئی کہتا تھا کہ حضور مجھے فلاں بزرگ نے آکر خواب میں کہا اور کوئی کہتا تھا حضور مجھے الہام