انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 4

العلوم جلد۔چند غلط فہمیوں کا ازالہ ہے۔مگر چونکہ ممکن تھا کہ مولوی صاحب کے رسالہ کو کوئی شخص میرے رسالہ کی تردید خیال کر لیتا اس لئے میں نے اس رسالہ کے پہنچتے ہی اس کے جواب میں ایک رسالہ لکھنا شروع کر دیا۔لیکن بعد میں مجھے خیال پیدا ہوا کہ مسئلہ نبوت پر ایک مستقل کتاب لکھ دی جائے تاکہ اپنی جماعت کے لوگ اس کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں اور آئندہ ہر رسالہ کے جواب دینے کی ضرورت نہ رہے اور ہر جگہ کے احمدی خود بخود ہر اعتراض کا جواب دینے پر قادر ہو جائیں اور انہیں ایسے ٹریکٹوں کے جواب کے لئے قادیان سے جواب شائع ہونے کی انتظار نہ کرنی پڑے۔اس لئے میں نے اس رسالہ کو کتاب کی صورت میں تبدیل کر دیا جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شائع ہو چکی ہے۔لیکن چونکہ احمدی جماعت کو واقف کرنے کے علاوہ غیر مبالکین کو سمجھانا بھی اور غیر احمدیوں کے دلوں سے ان غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی جو ان میں ہمارے اعتقادات کی نسبت پھیلائی جاتی ہیں نہایت ضروری ہے اور اتنی بڑی کتاب نہ کثرت سے شائع کی جا سکتی ہے اور نہ ہر ایک شخص اس کو پڑھ سکتا ہے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے مختصر ٹریکٹ میں مولوی صاحب کی غلط فہمیوں کو ظاہر کر دیا جائے جسے تمام غیر مبائعین اور غیر احمدی بھی آسانی سے پڑھ سکیں اور اس کی اشاعت بھی کثرت سے ہو سکے۔جناب مولوی صاحب نے اپنے رسالہ کے شروع میں اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ وہ نیک نیتی سے سب کام کر رہے ہیں اور ہمیں اس بات کے قبول کر لینے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ وہ واقع میں نیک نیتی سے ہی سب کام کر رہے ہیں لیکن ہم اس بات کے اظہار سے بھی نہیں رک سکتے کہ نیک نیتی کے ساتھ ساتھ تعصب بھی ضرور شامل ہے کیونکہ گو اس بات کو ہم کر سکتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا نہیں دے رہے لیکن اس بات کو ہم تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری تحریرات کو ٹھنڈے دل اور اطمینان قلب کے ساتھ پڑھتے ہیں بلکہ اس کے برخلاف ان کی تحریرات کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ جوش و غضب سے مجبور ہو کر اپنی رائے سے اختلاف رکھنے والے کی تحریر پر کافی غور نہیں کر سکتے اور اس کے غلط معنی سمجھ کر اپنی غلط فہمی کا ازالہ شروع کر دیتے ہیں اور یہ عادت انسان کے لئے بہت سی ٹھوکروں کا موجب ہو جاتی ہے۔ہے ہم جناب مولوی صاحب کی اس نصیحت کو بھی قبول کرتے ہیں کہ غلو نہایت بری شئے۔اور مانتے ہیں کہ غلو بھی لے انسان کو ویسا ہی تباہ کر دیتا ہے جیسا کہ کسی کو اس کے درجہ سے گھٹانا۔