انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 282

نوار العلوم جلد - ۳ ۲۸۲ اسلام اور دیگر مذاہب نے ہمارے ساتھ یہ معاملہ کیوں کیا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے گلا بل لا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ الفجر : (۱۸) یہ بات نہیں جو تم کہتے ہو بلکہ بات یہ ہے کہ تم بیتامی کی خبر گیری نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو بے بس دیکھ کر ان کی طرف التفات ہی نہ کرتے تھے۔ مساکین کی نسبت فرماتا ہے کہ ان سے حسن سلوک نہ کرنا ان افعال میں سے ہے جو انسان کو دوزخی بنا دیتا ہے۔ چنانچہ بعض جہنمیوں کی نسبت فرماتا ہے وَلا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ ، فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هُهُنَا حَمِيمٌ (الحاقہ : ۳۵-۳۶) چونکہ وہ مساکین کی خبر گیری کی تحریک نہیں کرتے تھے اس لئے خدا تعالٰی نے بھی ان کی مدد نہ کی ورنہ خدا تعالی ان کو عذاب سے بچاتا۔ یتائی اور مساکین کے علاوہ دیگر بنی نوع ان احکام میں سے جو اسلام نے عام بنی نوع انسان سے سلوک کے متعلق تعلیم انسان کے متعلق دیئے ہیں ایک یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اتفاقاً کسی انسان کی بدی پر آگاہ ہو جائے تو اس پر پردہ ڈال دے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں لَا يَسْتُرُ عَبْدُ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللهُ فِي يَوْمِ الْقِيمَةِ (مسند احمد بن خلیل جلد ۲ یعنی کوئی بندہ کسی بندہ کا کوئی عیب چھپائے تو اللہ تعالیٰ قیامت صفحه (۳۸۹) کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔ اسی طرح یہ تعلیم ہے کہ کسی انسان سے بھی ایک مسلمان کو سود لینا جائز نہیں بلکہ اگر کوئی حاجتمند ہو تو جہاں تک ہو سکے اس کی مدد کرے یا اسے قرض دے کہ سود ایک زیادتی ہے جو ایک انسان دوسرے انسان پر کرتا ہے۔ کیونکہ جس وقت اس کا ایک بھائی حاجتمند ہوتا ہے اس وقت وہ اس سے اور مال بھی چھیننا چاہتا ہے۔ انہی تعلیموں میں سے یہ تعلیم بھی ہے کہ کسی شخص کو کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب و پاخانہ کرنے کی اجازت نہیں ( ترندى البواب الطهارة باب ما جاء في كراهية البول في الماء الراكد) كيونكم اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بعض لوگ اگر ضرور تا ایسے پانی کو استعمال کریں گے تو بوجہ نجس ہونے کے نقصان اٹھائیں گے۔ پھر انہی تعلیموں میں سے جو اسلام نے عام بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے دی ہیں۔ یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو سایہ دار درخت یا راستہ یا پانی کی گھاٹ پر پاخانہ پھر نے کی اجازت نہیں ( ترندی ابواب الطهاره با با جهان اب أن النبي كان اذا اراد الحاجة۔ اجة ابعد في المذهب) أن ذهب) کیونکہ اس سے تھکے ماندے ہوئے مسافروں اور راستہ چلنے والے لوگوں اور پیاسوں کو ایذاء پہنچنے کا اندیشہ ہے کنز العمال جلد ۹ صفحه ۳۵۳ روایت نمبر ۲۶۴۱۳