انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 263

انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۶۳ اسلام اور دیگر مذاہب کرتی ہے اور اس کی ناز برداریاں کرتی ہے نہ اس لئے کہ اس کی حالت زار دیکھتی ہے یا اسے مصیبت میں پاتی ہے بلکہ صرف اس لئے کہ وہ اس کے جگر کا ٹکڑا ہے اور اس کا بیٹا ہے۔ بارہا اولاد امیر ہوتی ہے اور ماں باپ غریب ہوتے ہیں تو وہ اسی طرح اپنی اولاد کے ساتھ اپنے محدود ذرائع سے سلوک کرتے رہتے ہیں جیسا کہ ایک امیر ماں باپ اپنی حیثیت کے مطابق اپنی اولاد سے سلوک کرتے ہیں پس ماں باپ کا سلوک نہ تو انعام کی خواہش پر ہوتا ہے نہ کسی پہلے احسان کے بدلہ میں نہ مصیبت یا دکھ کا نظارہ دیکھ کر رحم کے جوش کی وجہ سے بلکہ ان کا سلوک ان تمام باتوں سے پاک ہوتا ہے اور صرف محبت اس کا باعث اور محرک ہوتی ہے۔ پس ایتاءِ ذِی القربی یعنی ایسا دینا جیسا کہ قریبی رشتہ دار دیتے ہیں عام احسان سے زیادہ اعلیٰ درجہ کا احسان ہوتا ہے اور اس درجہ کی طرف اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ایک مؤمن کو صرف احسان کے درجہ پر کھڑا نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنے اندر بنی نوع انسان کی ایسی محبت پیدا کرے جیسی محبت کہ مہربان باپ اور محبت کرنے والی ماں اپنے بچہ سے رکھتے ہیں اور ان سے بلا امتیاز امارت و غربت نیک سلوک کرے اور کسی وقتی جوش کے ماتحت ان سے تعلق نہ ہو۔ اسی طرح ان تین نیکیوں کے حاصل کرنے کے ساتھ ہی وہ تین بدیاں بھی ترک کرے یعنی ان بدیوں کو بھی ترک کر دے جو اس کی اپنی ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ان کو بھی جو ہیں تو اس کی ذات کے ہی متعلق مگر ایسی ہیں کہ لوگ بھی ان سے واقف ہوتے ہیں اور انہیں ناپسند کرتے ہیں اور وہ بدیاں بھی چھوڑ دے جن میں دوسرے لوگوں کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے یا کسی حکومت کے انتظام میں ان سے خلل آتا ہے اور ان دونوں حکموں کو ملا کر گویا شفقت علی خلق اللہ کے تمام مدارج کو پورا کر دیا کیوں کہ شفقت دو ہی قسم پر منقسم ہوتی ہے اول ایصال خیر دوم دفع شر اور اس آیت میں دونوں قسموں کو تمام و کمال بیان کر دیا گیا ہے یعنی ایک مسلم کو لوگوں سے نیکی تو اتنی کرنی چاہئے کہ عدل سے ترقی کرتے کرتے وہ اس حد تک پہنچ جائے کہ لوگوں کے ساتھ ایسی محبت کے ساتھ معاملہ کرے اور بلا امتیاز ان پر اس طرح احسان کرے جس طرح ماں باپ بچہ پر کرتے ہیں اور بدی سے بھی اس قدر دور رہنا چاہئے کہ خطرناک بغاوتوں اور شرارتوں کو چھوڑتے چھوڑتے اس حد تک پہنچ جائے کہ ان بدیوں کو بھی چھوڑے جو صرف ان کے نفس کے اندر مخفی ہیں کیونکہ نہ معلوم کسی نامعلوم رنگ میں ان سے ہی کسی کو نقصان پہنچ جائے غرض شفقت علی خلق اللہ کے دونوں