انوارالعلوم (جلد 3) — Page 260
انوار العلوم جلد۔۳ ۲۶۰ اسلام اور دیگر مذاہب خدائے تعالی تک انسان کو پہنچا سکتا ہے اور جس کی تعلیم تمام بنی نوع انسان کو ہدایت دے سکتی ہے۔مذکورہ بالا آیت کے علاوہ ایک اور آیت بھی کھانے پینے کے متعلق قرآن کریم میں آتی ہے اور وہ یہ ہے وَ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا - (الاعراف : (۳۲) یعنی کھاؤ اور پیو لیکن کھانے اور پینے میں اسراف نہ کر د یعنی ایسا نہ ہو کہ اپنی زندگی عمدہ کھانوں اور ٹھنڈے شربتوں کے لئے وقف کر دو بلکہ ضرورت کے مطابق ہر طیب چیز بے شک استعمال کرو۔کھانے پینے اور باقی زینت اور آرام کی اشیاء کے لئے جو انسان اپنے آرام کے لئے استعمال کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِنَ اَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ (الاعراف (۳۳) یعنی کہہ کہ کس نے حرام کی ہیں وہ زینت کی اشیاء جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے ا کی ہیں اسی طرح کس نے طیب رزق حرام کئے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ نے کچھ اشیاء بطور زینت پیدا کی ہیں تو پھر کس کی طاقت ہے کہ ان اشیاء کو کوئی استعمال نہ کرے - اگر ان کا استعمال کرنا نا جائز تھا تو پھر خدائے تعالیٰ نے انہیں پیدا کیوں کیا؟ اسی طرح عبادت کے متعلق رسول کریم نے تاکید فرمائی ہے کہ اتنی عبادت کرو جس پر نفس راضی ہو اور جب نفس میں ملال پیدا ہونے لگے اسی وقت چھوڑ دو اور آپ کی نسبت یہ روایت ہے کہ آپ ایک دفعہ مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں ایک رسی لٹکی ہوئی دیکھی۔آپ نے دریافت کیا کہ یہ کیسی رہی ہے تو لوگوں نے جواب دیا کہ ام المومنین زینب نے اس لئے لٹکوائی ہے کہ جب وہ نماز میں مشغول ہوتی ہیں تو کبھی سخت نیند آئے تو اس پر سہارا لے لیتی ہیں۔آپ نے فرمایا اس رسی کو ابھی کھول رو (بخارى كتاب التهجد باب يكره من التشديد في العبادة ، ایسی عبادت کی اجازت نہیں۔اسی طرح روزوں کے متعلق عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول الله الا اللہ کو اطلاع ملی کہ انہوں نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا تو اس پر آپ نے ان کو بلا کر فرمایا کہ یہ درست نہیں اور آخر ان کے بہت اصرار کرنے پر اس بات کی اجازت دی کہ ایک دن روزہ رکھ لیں اور ایک دن انظار کریں اور جب انہوں نے کہا کہ میں اس سے بھی بہتر روزوں کی طاقت رکھتا ہوں یعنی میں اس سے زیادہ برداشت کر سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اس سے بہتر کوئی روزہ نہیں یعنی اگر اس سے زیادہ کوئی انسان رکھے گا تو اس کی صحت کو صدمہ پہنچے گا اور نتیجہ اچھا نہ نکلے گا۔غرض آپ نے آخر میں یہ کہہ کر ان کو رخصت کیا کہ اے عبداللہ تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھ کا