انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 242

۲۴۲ اسلام اور دیگر مذاہب میرے پچھلے مضمون سے یہ بات بیائی اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں فرق ثبوت پہنچ جاتی ہے کہ اسلام سب ادیان کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے لیکن اس بات کا مدعی ہے کہ جس وقت اسلام آیا اس وقت سب مذاہب بگڑ چکے تھے اس لئے خدائے تعالی نے دنیا کی ہدایت کیلئے قرآن کریم اتارا اور چونکہ انسان کی روحانی استعداد کامل ہو چکی تھی اور دنیا بھی اس حد تک ترقی کر چکی تھی کہ تمام عالم آپس میں مل جائے جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا اس لئے خدائے تعالیٰ نے ایک کامل اور مکمل دین دنیا کی طرف بھیجا تا اسے ترقی کے کمال پر پہنچائے۔پس اس اصل کے ماتحت ہم جو اسلام کا مقابلہ دیگر ادیان کے ساتھ کرتے ہیں تو یا تو اس لئے کہ ان مذاہب میں بعض خوبیاں تھیں لیکن مرور زمانہ کے سبب سے وہ بعد میں مٹ گئیں یا ان کی جگہ بعض انسانوں نے اپنے بعض مطالب کو پورا کرنے کے لئے کچھ اور تعلیم ملا دی اور یا اس لئے کہ اس میں جو تعلیم تھی وہ بنفسہ تو اچھی تھی لیکن ایسی نہ تھی کہ ہر زمانہ اور ہر وقت میں کام آ سکتی اور اس میں خاص حالات کو مد نظر رکھ کر انسانی فطرت کے کسی خاص پہلو پر یا انسانی فرائض میں سے کسی خاص فرض پر زور دیا گیا تھا اور انسانی فطرت کے بعض دیگر پہلوؤں یا اس کے بعض فرائض کو یا تو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا یا ایسے دبے الفاظ میں ان کا ذکر تھا کہ وہ انسانی اعمال کی درستی کیلئے پورے طور پر موثر نہیں ہو سکتے تھے چنانچہ اسلام اور دیگر مذاہب کے اس فرق کو اللہ تعالٰی قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے وَ كَذلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا) ، ( البقرة : (۱۴۴) اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک ایسی امت بنایا ہے کہ جو اپنے اعمال میں ایک درمیانی رنگ رکھتی ہے۔اور نہ تو افراط کی طرف جھک جاتی ہے اور نہ تفریط کی طرف مائل ہو جاتی ہے بلکہ اس کے اعمال ترازو کے تولی کی طرح ایسے درمیان میں رہتے ہیں کہ کسی پہلو کو ان میں نظر انداز نہیں کیا جاتا اور ہم نے تم کو ایسا اس لئے بنایا ہے کہ تاتم دوسرے مذاہب اور دوسری اقوام کیلئے ایک گواہ کی طرح ہو یعنی جس طرح گواہ کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ حق کیا ہے اور کس کا ہے اسی طرح تم میں سے جو لوگ قرآن کریم کی تعلیم پر چل کر اس کے نیک اثرات کو اپنے اندر پیدا کریں وہ دوسری اقوام کیلئے جو اب تک قرآن کریم کی صداقت سے لذت آشنا نہیں اس کی صداقت اور اس کے وسیع اور روحانی زندگی میں تغیر عظیم پیدا کرنے والے اثرات پر بطور ایک شاہد کے