انوارالعلوم (جلد 3) — Page 239
اندار العلوم جلد ۳۰ ۲۳۹ اسلام اور دیگر مذاہب بلا تا بلکہ خود بھی خدائے تعالی پر ایمان لاتا ہے اور اس کے تمام احکام کو قبول کرتا ہے پس تم اس کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم خدائے تعالی تک پہنچ سکو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے کہ تمام دنیا کی طرف ایک ہی رسول اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تا اس ذریعہ سے وہ خدا جو زمین و آسمان کا ایک ہی خدا ہے اپنے پورے جلال کے ساتھ ایک ہی رسول کے ذریعہ سے سب دنیا پر ظاہر ہو اور تا اس کی توحید ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہو اور یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ وہ اس وقت دنیا کو چھوڑ دیتا حالانکہ وہ زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے۔ پس اس کی صفت احیاء نے چاہا کہ مردہ زمین کو پھر زندہ کرے اور جو مذاہب کہ اب دنیا کی ہدایت کیلئے کار آمد نہیں ان کو مردہ مذاہب میں شامل کر دے یعنی ان کو منسوخ کر کے ایک کار آمد اور کل انسانی ضروریات کو پورا کرنے والا مذہب دنیا میں پھیلائے اور یہ دعوئی ایک ایسا دعوی تھا جو نہ تو ہند کے رشیوں نے نہ ایران کے داناؤں نے نہ شام کے نابیوں نے کیا تھا بلکہ وہ ایک ہی قوم یا ایک ہی ملک کی طرف آئے تھے اور اگر کسی قوم نے اپنی تبلیغ کو کسی وقت وسیع بھی کیا ہے تو بانیان مذہب کی تعلیم کے خلاف اور ان کے بعد ایسا کیا ہے جیسا کہ اسلام کے سوا دو سرے مذاہب میں سے سب سے بڑے تبلیغی مذہب یعنی مسیحیت کی تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح نے تو تبلیغ عام سے رو کا لیکن ان کے بعد تبلیغ عام کر دی گئی پس وہ اس مذہب کا حصہ نہیں کہلا سکتی۔ غرض اسلام کا دعوی ہے کہ اس سے پہلے جس قدر مذاہب تھے وہ دو وجوہات سے منسوخ کر دیئے گئے اول تو یہ کہ ان کی بعض تعلیمیں وقتی تھیں اور ایک خاص قوم یا خاص ملک یا خاص زمانہ کے حالات کے مطابق تھیں اور اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت چاہتی تھی کہ اب ان کو منسوخ کر دیا جائے اور ایک ایسی تعلیم بھیجی جائے جو سب قوموں اور سب ملکوں اور سب زبانوں کے مطابق حال ہو۔ اور دوم اس لئے کہ پہلی کتب کی اصل تعلیم بھی بہت کچھ بگڑ چکی تھی اور ان کی الہامی کتابیں اس شکل میں نہ رہی تھیں جس میں کہ وہ نازل ہوئی تھیں اور اب ان پر عمل کرنا ایک محقق انسان کیلئے مشکل ہو گیا تھا کیونکہ وہ اس کے لئے بوجہ مشکوک ہونے کے باعث تسلی نہ رہی تھیں اور باوجود ان کے اندر بہت سی صداقتوں کے موجود ہونے کے انسان یقین اور تسلی سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ جس حکم پر عمل کر رہا ہے واقعہ میں وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں۔ پس اس بے اعتباری اور شک کو دور کرنے کیلئے جو روحانی ترقیات کیلئے ایک ملک زہر کی طرح ہوتا ہے خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ ایک نیا کلام اور نئی شریعت نازل کرے جس پر