انوارالعلوم (جلد 3) — Page 228
انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۲۸ انوار خلافت حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعى ( اليواقيت والجواهر مرتبه امام شعرانی جلد ۲ ص ) اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ ہوتا۔ اگر اس بات کا کوئی ثبوت دنیا کے سامنے پیش نہ کیا جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ (نعوذ باللہ ) یہ بڑ مار دی ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرتے۔ خدا تعالیٰ نے اس بات کو دور کرنے کے لئے یہ لئے یہ کیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو ان نبیوں کے کمالات کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ کو تمام نبیوں کے نام سے یاد کیا۔ موسیٰ بھی کہا۔ عیسی بھی کہا۔ ابراہیم بھی کہا۔ داؤد بھی کہا۔ اور پھر جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلل الأنبياء کہہ کر سب نبیوں کے نام آپ کے نام رکھے اور پھر اس کے ساتھ آپ کو غلام احمد " بھی کہا اور اس طرح رسول کریم ﷺ کے قول کی سچائی ثابت کی۔ کیونکہ جبکہ ایک شخص ان سب انبیاء کے کمالات کا جامع ہو کر رسول کریم ﷺ کا غلام کہلایا۔ تو اگر ان ناموں کے مصداق الگ الگ دنیا میں زندہ ہوتے تو رسول کریم ا کی کیوں غلامی نہ کرتے۔ پس تمام نبیوں کے نام حضرت صاحب کو دے کر رسول کریم ﷺ کے دعوے کی تصدیق کی گئی ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ یہ فرمانا کہ مثیل عیسی آئے گا مثیل موسیٰ آئے گا تو لوگ کہہ سکتے تھے کہ مثیل تو چھوٹا بھی ہو سکتا ہے پس اس کی غلامی سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ اگر وہ انبیاء ہوتے تو وہ بھی آپ کی غلامی کرتے۔ پس خدا تعالیٰ نے آپ کو پہلے نبیوں کا مثیل نہیں کہا۔ بلکہ مسیح ، نوح، موسی ، ابراہیم ، داؤد کہا اور سب نبیوں کے کمالات کا جامع کہا۔ لیکن باوجود اس کے محمد " کا غلام کہا تا معلوم ہو کہ اگر وہ الگ الگ طور پر پہلے نبی دنیا میں ہوتے تو وہ بھی رسول کریم" کا غلام ہونے کو فخر سمجھتے۔ غرض یہ حکمتیں تھیں حضرت مسیح موعود کے اس قدر نام رکھنے کی اور یہ مصلحتیں تھیں آپ کو وہی نبی قرار دینے کی اور مثیل نہ کہنے کی۔ جن کو میں نے مختصر الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ م