انوارالعلوم (جلد 3) — Page xxiii
دم جلد ۳ 14 تعارف کتب (۱) پہلا ذکر نماز ہے (۲) دوسرا قرآن کریم کا پڑھنا (۳) تیسرا اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان تکرار سے اور ان کا اقرار کرنا اور ان کی تفصیل اپنی زبان سے بیان کرنا (۴) چوتھا خدا تعالی کی صفات کو علیحدگی اور تنہائی میں بیان کرنا اور لوگوں میں بھی ان کا اظہار کرنا۔اسی تسلسل میں آپ نے ذکر الہی کو مقبول بنانے کے لئے ذرائع اور ذکر الہی کے خاص اوقات بھی بیان فرمائے۔اس خطاب میں آپ نے "مقام محمود " تک پہنچانے والے ذکر یعنی نماز تہجد میں باقاعدگی کی تاکید فرمائی اور اس کے التزام و اہتمام کے ایک درجن سے زائد طریق جتلائے۔اور اسی طرح نماز میں توجہ کو قائم رکھنے کے لئے آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں بائیس طریق بیان فرمائے۔اور آخر میں حضور نے ذکر الہی کے بارہ عظیم الشان فوائد پیش فرمائے۔(۱۴) عید الاضحی پر مسلمانوں کا فرض اپریل ۱۹۱۷ ء میں عید الاضحی کے موقع پر اس پمفلٹ میں قربانی کی روح اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : " جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے فنا ہو جاتے ہیں وہ دائی بقا حاصل کرتے ہیں“ ای طرح فرمایا : پس اخلاص اور محبت سے تمام ان لوگوں سے جو خواہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں لیکن اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں یہ استدعا کرتا ہوں کہ وہ اس عید کے دن بجائے ظاہر پر زور دینے کے باطن پر زور دیں“۔عید قربان کے موقع پر عام طور پر ہندو مسلم فسادات برپا ہو جایا کرتے تھے اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: پس عقل مندوں کی طرح دشمنوں سے بدلہ لو اور اس کو اس راستہ سے پکڑو جہاں سے وہ بھاگ نہ سکے اور وہ راستہ اخلاق کا راستہ اور تبلیغ کا راستہ ہے"۔مسلمانوں میں عزت نفس پیدا کرنے اور ہندو غلبہ کو ختم کرنے کے لئے حضور نے ایک نهایت دور رس نتائج کی سکیم بیان کرتے ہوئے فرمایا :