انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 152

وم جلد ۳ ۱۵۲ انوار خلافت اگر کسی کی بیعت لے بھی لوں تو کیا اس وقت تک وہ احمدی ہو سکتا ہے جب تک کہ خدا کی نظر میں احمدی نہ ہو۔احمدی اصل میں وہی ہے جو خدا کی نظر میں احمدی ہے۔میرے احمدی کر لینے کوئی احمدی نہیں بن جاتا۔پس تم خدا تعالیٰ کی نظر میں احمدی بنو۔اور وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعود کے تمام احکام کو پوری پوری طرح بجالاؤ۔خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے۔گورنمنٹ کی وفاداری ایک اور خاص بات ہے جس کا بیان کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے متعلق بھی حضرت صاحب نے بار بار تاکید فرمائی ہے۔میں نے پچھلے جلسہ پر اس کے متعلق بیان کیا تھا اور وہ گورنمنٹ کی وفاداری ہے۔اس گورنمنٹ کے ہم پر بڑے بڑے احسان ہیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مونہہ سے بارہا سنا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اتنے احسان ہیں کہ اگر ہم اس کی وفاداری نہ کریں اور اسے مدد نہ دیں تو ہم بڑے ہی بے وفا ہوں گے۔میں بھی یہی کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کی وفاداری ہمیں دل و جان سے کرنی چاہئے۔میں اگر کسی سے کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو گورنمنٹ کے خلاف ہوتی ہے تو کانپ جاتا ہوں۔کیونکہ اس قسم کی کوئی بات کرنا بہت ہی نمک حرامی ہے یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو نہ معلوم ہمارے لئے کیا کیا مشکلات ہوتیں۔ابھی چند دنوں کا ہی ذکر ہے کہ ہمارے مالا بار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویش ناک ہو گئی تھی ان کے لڑکوں کو سکولوں کی میں آنے سے بند کر دیا گیا۔ان کے مردے دفن کرنے سے روک دیئے گئے چنانچہ ایک مردہ کئی دن تک پڑا رہا۔مسجدوں سے روک دیا گیا۔تجارت کو بند کر دیا لیکن اس گورنمنٹ نے ایسی مدد کی ہے کہ اگر ہماری اپنی سلطنت بھی ہوتی تو بھی ہم اس سے زیادہ نہ کر سکتے۔اور وہ یہ کہ گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد اور قبرستان بنا لو۔لیکن وہاں کا راجہ اس پر بھی باز نہیں آیا اور اس نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ زمین تو میری ہے میں نہیں دیتا۔اور یہ بھی لکھا کہ خبردار اگر تم نے اس پر کوئی عمارت بنائی تو سزا پاؤ گے۔اور یہ بھی کہا کہ تم لوگ حاضر ہو کر بتاؤ کہ کیوں تمھارا بائیکاٹ نہ کر دیا جائے کیونکہ علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔اس پر احمدیوں نے گورنمنٹ کی خدمت میں